top of page

خیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا یا مختصر طور پر پختونخوا، پاکستان کا ایک صوبہ ہے

جو پاکستان کے شمالی مغربی حصّے میں واقع ہے۔ رقبے کے لحاظ

پاکستان کے چار صوبوں میں سب سے چھوٹا جبکہ آبادی کے لحاظ

سے تیسرا بڑا صوبہ ہے۔ اس کا شمالی حصّہ سرسبز و شاداب علاقوں پہ

مشتمل ہے جہاں لوگ مختلف علاقوں سے سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔

اور جنوبی حصّہ شہروں پر مشتمل ہے جہاں پاکستان کے بہت سے اہم ادارے

اور صنعتیں موجود ہیں۔ صوبائی زبان پشتو اور صوبائی دارالحکومت پشاور ہے۔

آبادیات و سماج

صوبہ خیبرپختونخواہ کی آبادی اندازاً ۲۱ ملین ہے۔ سب سے بڑا نسلی گروہ پختونوں کا ہے جن کی آبادی

صوبے کی کل آبادی کا تقریباً ۶۶ فیصد ہے۔ سب سے بڑی زبان پشتو جبکہہندکو دوسری بڑی عام بولی جانے

والی مقامی زبان ہے۔ پشتو مغربی اور جنوبی سرحد میں غالب زبان ہے اور یہ کئی شہروں اور قصبوں کی اصل

زبان بھی ہے جن میں پشاور بھی شامل ہے۔ ہندکو بولنے والے مغربی سرحد مثلاً ہزارہ ڈویژن میں خصوصاً ایبٹ آباد،

مانسہرہ اور ہری پور شہروں میں عام ہیں جبکہ باقی دوضلعوں ضلع اپرکوہستاناورضلعلوئرکوہستان میں کوہستانی زبان

بولی جاتی ہے۔ سرائیکی اور بلوچی بولنے والے صوبے کے جنوب مشرق میں خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان میں رہتے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکز اور جنوب کے دیہاتی علاقوں میں کئی پختون قبیلے آباد ہیں جن میں بنگش، میاں خیل 'یوسفزئی، تنولی ،دلازاک، خٹک، مروت، آفریدی، شنواری،اورکزئی، محسود، مھمند,.بنوسی اور وزیر قبائیل شامل ہیں.

شمال کی طرف سلیمانخیل سلیمانیسواتی، ترین، جدون اور مشوانی بڑے پشتون قبیلے ہیں. کئی غیر پشتون قبیلے بھی ہیں

مثلاًاعوان، گجر وغیرہ. اعوان قبیلے کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اصل میںعرب ہیں اور اس قبیلے کے لوگ باقی

پشتونوں اور غیر پشتونوں سے مختلف ہیں.
شمال میں ضلع چترال ہے جہاں چھوٹے نسلی گروہ جیسے کوہستانی، خوار، شینا، توروالی، کالاشااور کالامی آباد ہیں.
اِس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ۱.۵ ملین افغان مہاجرین بھی قیام پزیر ہیں جن میں اکثریت پشتونوں کی ہے.
صوبہ خیبر پختونخوا کے تقریباًتمام باشندگان مسلمان ہیں جن میں سُنّی سب سے زیادہ ہیں۔

قدیم تاریخ

خطۂ صوبہ خیبر پختونخوا میں قدیم زمانے سے کئی حملہ آور گروہ آتے رہے ہیں جن میںفارسی، یونانی، کُشن، ہُنز، عرب، تُرک، منگول، مُغل، سکھ اور برطانیہ شامل ہیں. 1500 اور 2000 قبل از مسیح کے درمیان، آریائی قوم کی ایک ایرانی شاخ بنی جس کی نمائندگی پشتون کررہے تھے اُنہوں نے صوبہ خیبر پختنونخواہ کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کرلیا۔

۶ صدی عیسیوی سے وادئ پشاور مملکتِ گندھارا کا مرکز تھا. بعد میں یہ شہر کُشن دورِ سلطنت کا دارالحکومت بھی بنا. اس خطے پر کئی معروف تاریخی اشخاص کے قدم پڑے مثلاً دیریس دوم، سکندر اعظم، ہیون سنگ، فا ہین، مارکوپولو، ماؤنٹسٹارٹ ایلفنسٹائن اور ونسٹن چرچل۔

خطّے پر موریائی قبضے کے بعد، بدھ مت یہاں کا بڑا مذہب بنا، خصوصاً شہری علاقوں میں جیسا کہ حالیہ آثاریاتی اور تشریحی شواہد سے پتا چلتا ہے. ایک بڑا کُشن فرماں روا کنیشکا بھی بُدھ مت کے عظیم بادشاہوں میں سے ایک تھا.
جبکہ دیہی علاقوں نے کئی شمنیتی عقائد برقرار رکھے مثلاً کالاش گروہ اور دوسرے. پشتونولی یا روایتی ضابطۂ وقار جس کی پشتون قوم پاسداری کرتی ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ اِس کی جڑیں بھی اسلام سے پہلے کی ہیں.

شاہی دور

صدی عیسوی کے اوائل میں، اسلام کی آمد سے پہلے، صوبہ خیبر پختونخوا پر بادشاہ حکومت کرتے تھے. پہلے حکمران تُرک تھے اور انہوں نے اِس خطے پر 870 صدی عیسوی تک حکومت کی. اُن کے بعد کے حکمرانوں کا شاید ہمسایہ کشمیر اور پنجاب کے حکمرانوں سے روابط تھے. جیسا کے آثار و تاریخ مثلاً سکّوں اور دوسری بنائی ہوئی چیزیں اُن کے کثیر ثقافتی کا ثبوت دیتی ہیں. ان آخری حکمرانوں کو اپنے برادرانہ قبیلوں نے آخر کار ختم کردیا جن کی کمان محمودِ غزنوی کررہے تھے۔(محمودغزنوی کے دورحکومت میں پشتون قبیلہ دلازاک وادی پشاورمیں آبادھوچکاتھا.دلازاکوں نے خیبرکے نام سے ایک قلعہ بنایا- جوبابرکے دورحکومت میں یوسف زئ کے ہاتھوں بے دخل ھوگئے)

اِسلام کی آمد

بدھ مت اور شمن پرستی اُس وقت تک بڑے مذاہب رہے جب تک مسلمانوں اور ترکوں نے 1000 صدی عیسوی کے آواخر میں قبضہ کرلیا. رفتہ رفتہ پشتون اور دوسرے قبیلے اسلام میں داخل ہوتے رہے. اِس دوران انہوں نے اپنے کچھ روایات برقرار رکھے جیسا کہ پشتونوں کی روایت پشتونولی یا ضابطۂ وقار و عزت. صوبہ خیبر پختونخوا عظیم اِسلامی مملکت یعنی "غزنوید مملکت" اور مملکتِ محمد غور کا حصہ بھی رہا۔ اس زمانے میں باقی ماندہ مسلمان ممالک سے مسلمان تاجر، اساتذہ، سائنسدان، فوجی، شاعر، طبیب اور صوفیوغیرہ یہاں جوق در جوق آتے رہے۔
پشتون قبائیل کے مغربی علاقوں میں تو اسلام رسول اللہ کی دور میں آیا تھا، اس بات کا اندازا اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت خالد بن ولید نے پشتون صحابی قیس عبدالراشد کو رسول اللہ سے مسجد نبوی میں ملاقات کرائی۔ اسلام کی بنیاد سب سے پہلے برصغیر میں اس وقت رکھی گئی جب محمد بن قاسم سمندری راستے سے سندھ میں آئے اور راجہ داہر کو شکست دے کر چلے گئے،یوں صرف بنیاد سندھ سے رکھی گئی لیکن اس کے بعد محمد بن قاسم چلے گئے۔ اس کے بعد افغان،ترک،منگول اور عرب حکمران اور تاجردرہ خیبر کے ذریعے ہندوستان آتے تھے اور اس سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات ) کے ذریعے پورے ہندوستان میں اسلام تیزی سے پھیلتا گیا۔

پشتون قوم پرستی

یہ صوبہ ایک اہم سرحدی علاقہ تھا جس پر مُغل اور فارس کے سفویوں کے درمیان اکثر اوقات تنازعہ رہتا تھا. مُغل حکمران اورنگزیب کے دَور میں، پشتون قوم پرست شاعرخوشحال خان خٹک نے اپنی شاعری کے ذریعے کئی پشتون قبائل کو حکمرانوں کے خلاف بیدار کیا، جس کی وجہ سے اِس خطے کو قابو میں رکھنے کے لئے بہت بڑی طاقت کی ضرورت تھی اوراسی بنا پر مغل اور پشتون قبائل میں جنگیں بھی ہوئی، ایک بڑی لڑائی مغلوں اور یوسفزئی قبیلے میں لڑی گئی جس میں بادشاہ اکبر کا وزیر راجا بیربل سوات کے مقام پر مارا گیا۔ خطہ بعد میں دُرّانی حکومت کے ذریعے یکجا ہوا جس کی بنیاد احمد شاہ دُرّانی نے ۱۷۴۷ء میں رکھی تھی.

برطانوی دور

برطانیہ اور روس کے درمیان جنوبی ایشیاء پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے کئی تصادم ہوئے. جس کے نتیجے میں افغانستان کی تقسیم واقع ہوئی. افغانوں سے دو جنگوں کے بعد برطانیہ 1893ء میںڈیورنڈ لائن نافذ کرنے میں کامیاب ہوگیا. ڈیورنڈ لائن نے افغانستان کا کچھ حصہ برطانوی ہندوستانمیں شامل کردیا. ڈیورنڈ لائن، سر مورتیمر ڈیورنڈ کے نام سے ہے جو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے معتمدِ خارجہ تھے. افغان ڈیورنڈ لائن کو ایک عارضی خط جبکہ برطانیہ اِس کو ایک مستقل سرحد سمجھتے تھے. یہ سرحدی خط قصداً ایسے کھینچی گئی کہ پختون قبیلے دو حصوں میں بٹ گئے.
برطانیہ جس نے جنوبی ایشیاء کا باقی حصہ بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کرلیا تھا، یہاں پر اُسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. پشتونوں کے ساتھ پہلی لڑائی کا نتیجہ بہت بُرا نکلا اور برطانوی فوج کا صرف ایک سپاہی جنگِ میدان سے واپس آنے میں کامیاب ہوا (جبکہ برطانوی فوجیوں کی کل تعداد 14,800 تھی). خطے میں اپنی رِٹ قائم رکھنے میں ناکامی کے بعد برطانیہ نے تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کا کھیل شروع کیا. برطانیہ نے اِس کھیل میں کٹھ پتلی پشتون حکمران صوبہ خیبر پختونخوا میں بھیجے. تاکہ پشتونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوسکے. باوجود اِس کے، موقعی پشتون حملے ہوتے رہے مثلاً محاصرۂ مالاکنڈ.
صوبہ خیبر پختونخوا 9 نومبر 1901 کو بطورِ منتظمِ اعلٰی صوبہ بنا. اور اس کا نام صوبہ سرحد رکھا گیا۔ ناظمِ اعلٰی صوبے کا مختارِ اعلٰی تھا. وہ انتظامیہ کو مشیروں کی مدد سے چلایا کرتا تھا.
صوبے کا باضابطہ افتتاح 26 اپریل 1902ء کو شاہی باغ پشاور میں تاریخی ‘‘دربار’’ کے دوران ہوا جس کی صدارت لارڈ کرزن کررہے تھے. اُس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے صرف پانچ اضلاع تھے جن کے نام یہ ہیں: پشاور، ہزارہ، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خانمالاکنڈ کی تین ریاستیں دیر، سوات اور چترال بھی اس میں شامل ہوگئیں. صوبہ خیبرپختونخواہ میں قبائل کے زیرِ انتظام ایجنسیاں خیبر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان بھی شامل تھیں. صوبہ خیبر پختونخوا کے پہلے ناظمِ اعلٰی ہرولڈ ڈین تھے.
صوبہ خیبر پختونخوا ایک مکمل حاکمی صوبہ 1935ء میں بنا. یہ فیصلہ اصل میں 1931ء میں گول میز اجلاس میں کیا گیا تھا. اجلاس میں اِس بات پر اتفاقِ رائے ہوا تھا کہ صوبہ سرحد کا اپنا ایک قانون ساز انجمن ہوگا. اِس لئے، 25 جنوری 1932ء کو وائسرائے نے قانونساز انجمن کا افتتاح کیا. پہلے صوبائی انتخابات 1937ء میں ہوئے. آزاد اُمیدوار اور جانے پہچانے جاگیردار صاحبزادہ عبدالقیوم خان صوبے کے پہلے وزیرِ اعلٰی منتخب ہوئے.

آزادی کے بعد

برطانیہ سے آزادی کے بعد، 1947ء کے اِستصوابِ رائے میں صوبہ سرحد نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی. تاہم، افغانستان کے 1949ء کے لویہ جرگہ نے ڈیورنڈ لائن کو غلط قرار دیا. جس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات ابھرے. 1950ء میں افغانستان نے علٰیحدگی پسند تحریک کی حمایت کی لیکن اِس تحریک کو قبائل میں پذیرائی حاصل نہ ہوئی. صدر ایوب خان کے پاکستانی صوبوں کے احذاف کے بعد، صدر یحیٰی خان نے 1969ء میں اِس ‘‘ایک اِکائی’’ منصوبے کو منسوخ کردیا اور سوات، دیر،چترال، اپرکوہستان,لوئرکوہستانکو نئے سرحدات میں شامل کردیا.
1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے تک پختونستان کا مسئلہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی دہائیوں تک تنازعات کا مؤجب بنا. حملے کے سبب پچاس لاکھ افغان مہاجرین نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، جو زیادہ تر صوبہ سرحد میں قیام پزیر ہوئے (2007ء کے شمار کے مطابق قریباً تیس لاکھ ابھی بھی رہتے ہیں). افغانستان پر سوویت کے قبضے کے دوران، 1980ء کی دہائی میں صوبہ خیبر پختونخوا مجاہدین کا بہت بڑا مرکز تھا جو سوویت یونین کے خلاف لڑرہے تھے.

جغرافیہ

 

درۂ خیبر

صوبہ خیبر پختونخوا کا علاقہ ارضیاتی طور پر حساس جگہ پر واقع ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماضی میں یہاں کئی زلزلے آچکے ہیں مثلاً زلزلۂ کشمیر. مشہور درّۂ خیبر صوبے کو افغانستان سے ملاتا ہے. صوبہ خیبر پختونخوا کا رقبہ 28,773 مربع میل یا 74,521 مربع کلومیٹر ہے.
صوبہ خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا شہر پشاور ہے جو صوبے کا دارالحکومت بھی ہے. دوسرے بڑے شہروں میں نوشہرہ،مردان، چارسدہ، مانسہرہ، ایوبیہ، نتھیاگلی اور ایبٹ آباد شامل ہیں. ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ،اپرکوہستانبنوں، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ بڑے اضلاع ہیں.
صوبہ خیبر پختونخوا کا خطہ جنوب میں خشک پتھریلی علاقوں جبکہ شمال میں سبز میدانوں پر مشتمل ہے. آب و ہوا شدید ہے، سردیوں میں یخ ٹھنڈ اور گرمیوں میں نہایت گرمی پڑتی ہے. شدید موسم کے باوجود زراعت زیادہ ہے. کندیا,سوات، کالام،دیر بالا، ناران، اور کاغان کی پہاڑی زمین حسین وادیوں کے لئے مشہور ہے. ہر سال کئی ملکی و غیر ملکی سیاح یہاں سیر و تفریح کے لئے آتے ہیں. سوات-کالام کو ‘‘سوٹزرلینڈ کا ٹکڑا’’ کہاجاتا ہے کیونکہ یہاں کے کئی مناظر سوٹزرلینڈ کے پہاڑی خطے سے مشابہت رکھتے ہیں.
۱۹۹۸ء کی مردم شماری کی مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی آبادی ۱۷ ملین تھی جس میں سے ۵۲ فیصد مرد اور ۴۸ فیصد خواتین تھیں. آبادی کی کثافت ۱۸۷ فرد فی کلومیٹر ہے.
جغرافیائی لحاظ سے صوبہ خیبر پختونخوا کو دو خطّوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: شمالی خطہ اور جنوبی خطہ. شمالی خطہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں سے شروع ہوکر پشاور کے سرحد، جبکہ جنوبی خطہ پشاور سے شروع ہوکر دراجت تک ہے. شمالی خطہ سردیوں میں ٹھنڈی، برفیلی اور زیادہ بارشوں والی جبکہ گرمیوں میں موسم خوشگوار ہوتا ہے ما سوائے پشاور کے جہاں گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں سخت سردی پڑتی ہے. جنوبی خطہ خشک اور بنجر ہے، موسمِ گرما بہت گرم اور موسمِ سرما قدرے سرد ہوتا ہے، بارشیں کم ہوتی ہیں.
صوبہ خیبرپختنونخواہ کے دریاؤ میں دریائے کابل، دریائے سوات، دریائے چترال، دریائے پنجگوڑہ، دریائے باڑہ، دریائے کرم، دریائے گومل اور دریائے ژوب شامل ہیں.
صوبہ خیبر پختونخوا جو کبھی گندھارا تہذیب کا گہوارا رہا ہے، اب یہ علاقہ پرہیزگار، پُرخلوص اور مہمان نواز مسلمانوں کے لئے مشہور ہے، جو اپنے مذہب، اقدار، ثقافت، تہذیب و تمدن، روایات اور طریقہ ہائے زندگی کی نہایت جوش و جذبے سے حفاظت کرتے ہیں۔

موسم

خیبر پختونخوا پاکستان کا وہ حصہ ہے چاروں موسم پائے جاتے ہیں ۔ ڈیرہ اسماعیل خان پاکستان کے گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جو خیبرپختونخوا کے جنوبی حصے میں واقع ہے اس کے برعکس سوات،دیر،چترال جیسے علاقے اکثر پاکستان کے سرد علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔

Pakistan_Khyber_Pass_IMG_9928

Pakistan_Khyber_Pass_IMG_9928

Islamia_College_Peshawar_2

Islamia_College_Peshawar_2

Bala_Hisar_Fort

Bala_Hisar_Fort

Bab-e-Peshawar_Flyover

Bab-e-Peshawar_Flyover

800px-Masjid_Muhabat_Khan

800px-Masjid_Muhabat_Khan

Peshawar_university_road

Peshawar_university_road

Sunehri_maseet_da_booa

Sunehri_maseet_da_booa

Hayatabad_Pesh

Hayatabad_Pesh

جس مقام کے بارے میں آپ جاننا چاہتے ہیں نقشے میں اس مقام پرکلک کریں
پشاور

خیبر پختونخوا کے شہر اور مقامات کی تفصیل

صوبائی دارالحکومت پشاور

پشاور پاکستان کا ایک قدیم شہر اور صوبہ خیبر پختونخوا کا صدر مقام ہے۔ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کا انتظامی مرکز بھی یہیں ہے۔ بڑی وادی میں بنا یہ شہر درہ خیبر کے مشرقی سرے پر واقع ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد اس کے پاس ہی ہے۔ وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کی اہم گذرگاہوں پر واقع یہ شہر علاقے کے بڑے شہروں میں سے ایک اور ثقافتی لحاظ سے متنوع ہے۔ پشاور میں آب پاشی کے لیے دریائے کابل اور دریائے کنہار سے نکلنے والی نہریں گذرتی ہیں۔

پشاور پاکستان کے نسلی اور لسانی اعتبار سے متنوع ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس کی شہری آبادی بڑھ رہی ہے جس کی وجوہات اردگرد کے دیہات اور خیبرپختونخوا کے دوسرے چھوٹے شہروں کی مقامی آبادی کا روزگار کے سلسلے میں بڑے شہر کو منتقلی، تعلیم اور دیگر خدمات شامل ہیں۔اس کے علاوہ آس پاس کے علاقوں میں فوجی کاروائیوں اور افغان مہاجرین کی آمد سے بھی یہاں کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں تعلیمی ، سیاسی اور کاروباری اعتبار سے پشاور سب سے آگے ہے اور علاقے کے ترقی یافتہ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں طب اور تعلیم کے حوالے سے بہترین تعلیمی اداروں میں سے کئی پشاور میں قائم ہیں۔ خانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء کے مطابق پشاور کی آبادی 1،970،042 ہے جو اسے خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا اورپاکستان کا چھٹا سب سے بڑا شہر بناتی ہے۔ 

چترال 

چترال ایک چھوٹا سا شہر یا علاقہ ہے جو ضلع چترال کے اندر واقع ہے۔ چترال پاکستانکے‎ انتہائي شمالي کونے پر واقع ہے۔ یہ ضلع ترچ میر کے دامن میں واقع ہے جو سلسلہ کوہ ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ہے جو اسے وسط ایشیا کے ممالک سے جدا کرتی ہے۔ رياست کے اس حصے کو بعد ميں ضلع کا درجہ ديا گيا۔ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے مالاکنڈڈويژن سے منسلک کيا گيا۔ اپنے منفرد جغرافيائي محلِ وقوع کي وجہ سے اس ضلع کا رابطہ ملک کے ديگر علاقوں سے تقريباپانچ مہينے تک منقطع رہتا ہے۔ اپني مخصوص پُر کشش ثقافت اور پُر اسرار ماضي کے حوالے سے ملفوف چترال کي جُداگانہ حيثّيت نے سياحت کے نقطۂ نظر سے بھي کافي اہميّيت اختيار کر لي۔ اپني مخصوص جغرافيائي حيثيت کي وجہ سے چترال کي اہميّت ميں مزيد اضافہ ہوا۔ موجودہ دور ميں وسطي ايشيائي مسلم ممالک کي آزادي نے اس کي اہميت کو کافي اُجاگر کيا۔ رقبے کے لحاظ سے يہ صوبہ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔

چترال پاکستان کا قدیمی لوک و تاریخی ورثہ کا حامل ہے ،بادشاہ منیر بخاری کے مطابق چترال میں 17 زبانیں بولی جاتی ہیں اور اس کی کل آبادی چار لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ،لیکن چترال سے تعلق رکھنے والے چترالی زبان کے ممتاز ادیب، شاعر، محقق اور صحافی رحمت عزیز چترالی نے چترال میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد چودہ لکھی ہے۔

اپر دیر یا دیر بالا

 

خیبر پختونخوا کا ضلع۔ ضلع دیر بالا نواب شاہجہان خان کي ایک سابقہ رياست تھي ۔ 1969 میں یہ پاکستان میں ضم کي گئي اور مالاکنڈ ڈويژن بننے کی بعد1970 ميں اس کو ضلع کا درجہ ديا گيا۔1996 ميں ضلع دير کو مزيد دو حصوں لوئر دیر اوراپردیر میں تقسيم کيا گيا۔

يہ ضلع خوبصورت مناظر اور محنت کش افرادي قوت کي وجہ سے مشہور ہے۔ذرائع معاش ميں جنگلات ،معدني دولت،کھيتي باڑي ،تجارت اور سمندرپار روزگار کو مرکزي حيثيت حاصل ہے۔

شماریات

شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرینگل، اپر دیر

  • ضلع کا کُل رقبہ 3699 مربع کلوميٹر ہے۔

  • یہاں في مربع کلو میٹر 188 افراد آباد ہيں

  • سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 694000 تھی

  • کُل قابِل کاشت رقبہ 41750 ہھيکٹيرز ہے

سوات

خیبر پختونخوا کا ایک کوہستانہ ضلع ہے۔سوات ايک سابقہ رياست تھی جسے 1970ء ميں ضلع کي حيثيّت دي گئي۔ ملاکنڈ ڈويژن کا صدر مقام سیدو شریف اس ضلع ہي ميں واقع ہے۔ سوات کو خیبر پختونخوا کے شمالي خطے ميں امتيازي حيثيّت حاصل ہے۔

 

تاریخی اہمیت

يہ ضلع سنٹرل ايشياء کي تاريخ ميں علمِ بشريات اور آثارِ قديمہ کے لئے مشہور ہے۔ بدھ مت تہذيب و تمدن کے زمانے ميں سوات کو بہت شُہرت حا صل تھي اور اسے اوديانہ يعني باغ کے نام سے پکارتے تھے۔

سیر و سیاحت

سيرو سياحت کے کثير مواقع کی وجہ سے اسے پاکستان کا سویٹزرلینڈ کہا جاتا ہے۔ شمالی علاقہ جات کی ترقی ميں سوات کا ايک اہم کردار رہا ہے۔ سر سبز و شاداب وسیع ميدانوں کے علاوہ يہ تجارت کا مرکز بھي ہے ۔ يہاں خوبصورت مرغُزار اور شفاف پاني کے چشمے اور دريا موجوکالام ,مدين اور بحرين ميں زندگي کي تمام سہوليات بشمولِ اعلٰي تعليمي ادارے موجود ہيں۔ یہاں کے لوگ انتہائي محنتي اورذہني لحاظ سے کافي ترقي يافتہ ہيں۔

دنیا کے حسین ترین خطوں میں شامل یہ علاقہ، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب 254 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جب کہ صوبائی دارالحکومت پشاور سے اس کا فاصلہ 170کلومیٹر ہے۔ 1998ء کی مردم شماری و خانہ شماری کے مطابق ضلع سوات کی کل آبادی بارہ لاکھ ستاون ہزار چھ سو دو (12,57,602) ہے اور اس کا کل رقبہ 5337 مربع کلومیٹر پر پھیلاہوا ہے۔ اس کے شمال میں ضلع چترال، جنوب میں ضلع بونیر، مشرق میں ضلع شانگلہ، مغرب میں ضلع دیراور ملاکنڈ ایجنسی کے علاقے اور جنوب مشرق میں سابق ریاستِ امب(دربند) کا خوب صورت علاقہ واقع ہے۔ سوات کو تین طبعی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: (1) بالائی سوات (2) زیریں سوات (3) کوہستان سوات[1]

سوات میں سیروسیاحت کے لئے خاص کر مالم جبہ، ڈاگے، کبل، سیدو شریف، شریف آباد،خوازہ خیلہ، بحرین، مدین، کالام،مٹہ،بری کوٹ،، چار باغمینگورہ بحرین اور خزانہ زیادہ تر مشہور ہے۔

چند مشہور گاؤں

سوات میں زیادہ تر چھوٹے چھوٹے گاؤں ہوتے ہیں۔ جس میں سے کچھ مشہور گاؤں مندرجہ ذیل ہے۔

1۔ ڈاگے 2۔ شریف آباد 3۔ گاڑی 4۔ ڈڈھارہ 5۔ پارڑھئی 6۔ ناگوھا 7۔ کوٹلئی 8۔ میلگاہ 9۔ زوڑہ 10۔ مرچکی 11۔ موڑہ خونہ 12۔ کبل (جو اب ایک شہر کی حیثیت رکھتا ہے) 13۔ لنڈئی 14۔ اخوند کلے 15۔ سویگلئیِ (جاونڈ) 16۔خوازہ خیلہ 17۔بہاروڑنگا18-شانګواټئ.شور یہ دیر اور کو ہستان سے ملے ہوئے گاوں ہیں۔

ڈاگے

ڈاگے وادی سوات کا ایک خوبصورت گاؤں ہے، جو سوات کے مشہور اور شہر کے حیثیت رکھنے والے علاقے کبل سے 2 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس گاؤں کے زیادہ تر لوگ ملک سے باہر ہیں اور باہر ممالک میں کام کرتے ہیں۔ اور جو لوگ گاؤں میں باقی ہیں وہ بہت محنتی اور جفاکش ہیں۔ نوجوان طبقہ زیادہ تر تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ اور خوش طبع زندگی گزارتے ہیں۔ اس گاؤں میں لڑکوں کے لیے ایک مڈل اسکول اور لڑکیوں کے لیے پرائمری اسکول موجود ہے۔ اس گاؤں کے ملحقہ مشرق کی طرف آخونکلے اور مغرب کی طرف زوڑہ اور گاڑی واقع ہیں۔

شماريات

ضلع کا کُل رقبہ 5337 مربع کلوميٹر ہے۔

  • یہاں في مربع کلو میٹر 295 افراد آباد ہيں

  • سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 1577000 تک پہنچ جائے گي ۔

  • دیہي آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔

  • کُل قابِل کاشت رقبہ98720 ہيکٹيرزھے

 

سوات کے بارونق میلے

پاکستانی فوج کی جانب سے موسم گرما میں جشن سوات کے رنگا رنگ فیسٹیول ہر سال منعقد کیا جاتا ہے۔ موٹرسائیکل سے چھلانگ، چوگان کے مقابلے، گھڑسواری، گھوڑوں کا رقص، پیرا شوٹ سے چھلانگ، پیرا گلائیڈنگ کے شاندار مظاہرے اور رات کو آتشبازی سے آسمان پر رنگ و نور کی بارش جیسا منظر دیکھا جاتا ہے۔ اس سے سیاح بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ پلوں کی تعمیراور سڑکوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال سے اس علاقے میں سیاحت کے فروغ کے کافی امکانات بن چکے ہیں۔ 

کوہستان بالا

خیبر پختونخوا کایه ضلع عجب جغرافيائي اہميّت اور حکمتِ عملانہ مقصديت کا حامل ہے دشوارگزارپهاڑی سلسلوں میں گھرا هونے کی وجه سے یه پاکستان کا پنج شیر کهلاتاهے علاقه سیوکی قدیم طرزتعمیرکاگهواره جامع مسجدسیو بھی اپنی مثال آپ ہی ہے۔ علاقےکی سرحدیں شمالى علاقہ جات، ضلع دیامر,سوات,ضلع غذراور لوئرکوہستان سے ملتی ہيں۔ شاہراہِ قراقُرم کی گزرگاہ ہونے کی بناء پر اس ضلع ميں شعبۂٕ سياحت کي بہتری کيلئے کافی استعداد موجود ہے۔ ہزارہ ڈويژن کے وجود سے 1976 ميںکوہستان بحیثیت ضلع وجود ميں آيا۔ یہ چار سب ڈويژن داسُو ، کندیا,پالس اور پٹن کے اشتملات پر مشتمل تھا۔ 2014ء میں ضلع کوہستان کو ضلع اپرکوہستان اور ضلع لوئرکوہستان میں تقسیم کر دیا گیا جس کے بعد صوبے میں اضلاع کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔ تحصیل پٹن اورتحصیل پالس کوملاکرلوئرکوہستان کےنام سےایک نیاضلع بنایاگیا اورتحصیل کندیااورتحصیل داسوپرمشتمل اپرکوہستانوجودمیں آیا 1976 کےتباہ کُن زلزلے کے بعد اس پسماندہ ضلع کی تعمير و ترقی کی ذ مہ داری کوہستان ڈيويلپمنٹ بورڈ کے سپرد کر دی گئی تهی۔ اگرچہ بعد میں بورڈ کا خاتمہ ہوا لیکن ترقیاتی سرگرمیوں نے اپني رفتار برقرار رکھی، جغرافیائی دوری معاشی اور معاشرتی کمزوری یہاں کے اہم مسائل ہیں۔ غربت عروج پر ہے۔اب یہاں حکومت داسو ڈیم کےنام سے ایک ڈیم بھی بناررہی ہے جو علاقےکی خوشحالی کاباعث هوگا۔

معیشت

یہاں کی اکثریت کاتعلق زمینداری سے ہے سبزیاں اور پھل بهت کم مگر لوگ اجناس کی فصلیں بهت اگاتے ہیں۔

مذهب

پورےضلع میں ایک بھی غیرمسلم نهیں بلکه سب ایک ہی مسلک کے لوگ هیں جن کا تعلق اهل سنت والجماعت ' علماۓدیوبندسے ہے

معدنیات

یه ضلع معدنی وسائل سےمالامال ہے.جالکوٹ کے علاقےسوپٹ سےقیمتی پتھر پیراڈوٹ,اور کرمائٹ جبکه کندیامیں زمرد,کرومائٹاوردیگرکئی دوسری قسم کی معدنیات ملتی هیں.

اپرکوہستان میں بولی جانےوالی زبان

جالکوٹ کنشیر هربن سازین اورشتیال میں شینا زبان بولی جاتی ہے جبکه علاقه سیو اور تحصیل کندیا میں کوہستانی بولی جاتی ہے اس کےعلاوه گجر برادری گجری زبان بولتےهیں

جالکوٹ کا قیمتی پتھر

ضلع اپرکوہستانکے علاقه جالکوٹ سوپٹ میں پیراڈوٹ کےنام سے ایک قیمتی پتھردریافت هواهے جوکلو کروڑوں میں بکتا ہے

جغرافیه

جغرافیائ لحاظ سے یه ضلع بهت وسیع ہے ضلعے کی آخری یونین کونسل هربن چلاس سے جاملتی ہے جالکوٹ کی سوپٹ ویلی ناراں ضلع مانسهره سے لگتی ہے. کندیابگڑوکےحدودکالامسوات , دوسری طرفدوبیرپٹن ضلع لوئرکوہستان سےجاملتےهیں. جبکه گبرال کی طرفکالامسوات , تانگیرضلع دیامراور ضلع غذرسےجا ملتی ہے سیوزید کھڈ کے حدودلوئرکوہستان سےملتے هیں دریاۓ سندھ اورشاهراه ریشم بهی ادهرسےگزرنےکی وجه سے اس ضلعےکی مقبولیت میں بےپناه اضافه هوتاهے۔

لوئرکوہستان

2014ء میں ضلع کوہستان کو ضلعاپرکوہستان اور ضلع لوئرکوہستان میں تقسیم کر دیا گیا جس کے بعد صوبے میں اضلاع کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔ تحصیل پٹن اورتحصیل پالسکوملاکر لوئرکوہستان کےنام سےایک نیا ضلع بنایاگیا اور تحصیل کندیا اورتحصیل داسوپرمشتمل اپرکوہستانوجودمیں آیا

شانگلہ

شانگلہ پاکستان کے خیبر پختونخوا میں واقع ایک ضلع ہے۔ انتظامی طور پر ضلع شانگلہ دو تحصیلوںالپوری اور پوران پر مشتمل ہے۔ بشام، چکیسر اور مارتونگ یہاں کے اہم مقامات ہیں۔ ضلع شانگلہ کے ضلعی دفاتر الپوری میں واقع ہیں۔ سرکاری طور پر ضلع متعین ہونے سے پہلے شانگلہ ضلع سواتکی ایک تحصیل تھا اور یکم جولائی 1995ء کو اسے ضلع بنا دیا گیا۔ اس ضلع کا کل رقبہ 1586 مربع کلومیٹر ہے۔

انسانی ترقی کے پیمانے میں شانگلہ کا شمار ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوامیں یہ سب سے پسماندہ جبکہ پاکستان میں یہ دوسرا سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔

محل وقوع

شمال میں شانگلہ کی سرحد ضلع کوہستان، مشرق میں ضلع بٹگرام اور کالا ڈھاکہ جبکہ مغرب میں ضلع سوات سے ملتی ہے۔ ضلع شانگلہ کے جنوب میںضلع بونیر واقع ہے۔

شانگلہ ٹاپ اس ضلع کو دوسرے اضلاع سے ملانے کا واحد ذريعہ ہے۔ يہ ضلع سواتى قبيلے کا آبائى وطن ہے۔ دریائے سندھ اسکے قريب بہتا ہے۔ ضلع شانگلہ اونچے پہاڑوں، تنگ درّوں، صنوبر، چيڑ اور ديودار کے گھنّے جنگلات کى سر زمين ہے۔ جنگلات ہى لوگوں کى معاشى زندگى اور آمدن کا واحد ذريعہ ہے۔صرف تنگ درّوں ميں کچھ کھيتى باڑى ہوتى ہے۔ لوگوں کى طرزِ زندگى قبائلى روايات اور مکمّل ديہاتى ماحول پر مشتمل ہے۔

تاریخ

پیرسر، چکیسر اور داوت کے مقامات پر قدیم یونانی اثرات کی حال ہی میں دریافت ہوئی ہے۔ یہاں یہ خیال عام ہے کہ سکندر اعظم نے پیر سر کے مقام پر کئی روز تک اپنے لشکر سمیت پڑاؤ ڈالا تھا۔ ہندو شاہی اور قلندر اجمیری کے یہاں قیام اور اثرات ملے ہیں۔

جغرافیہ

ضلع شانگلہ کئی وادیوں پر مشتمل علاقہ ہے جو رقبہ کے لحاظ سے عظیم تصور نہیں کی جاسکتیں۔ یہاں بلند وبالا پہاڑ ہیں جو گنجان جنگل ہیں جن میں پنڈرو، فر، کیل، چیڑ اور دیودار کے جنگلات شامل ہیں۔ سطح سمندر سے یہ علاقہ تقریباً 2000 سے 3000 میٹر بلند ہے۔ یہاں کا بلند ترین مقام کوز گنرشال ہے جو 3440 میٹر بلند ہے اور ضلع کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔ جنگلی سبزیوں کی پیداوار کے لحاظ سے یہ علاقہ موزوں ترین تصور کیا جاتا ہے اور یہاں پانی کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنے کے کئی مواقع دستیاب ہیں۔ خان خوڑ میں حال ہی میں ایک ایسا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے مقامی سطح پر بجلی پیدا کی جائے گی۔

شماریات

ضلع کا کُل رقبہ 1586 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 341 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 541000 تک پہنچ جائے گي ۔

دیہى آبادى کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 41750 ہيکٹيرز ہے۔

بٹگرام

خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں واقع شہر۔ يکم جولائي 1993ء ميں ضلع کا درجہ ديا گيا۔ اس سے پہلے يہ ضلع مانسہرہ ہزارہ ڈويثرنکي تحصيل تھا۔

محل وقوع

محلِ وقوع کے لحا ظ سے بٹگرام کو يہ انفراديّت حاصل ہے کہ اس کي سرحدیں ضلعکوہستان، کا لا ڈھاکہ کے قبائلي علاقہ جات اور ضلع شانگلہ ، مالاکنڈ ڈويثرن سے ملتي ہيں۔ يہ ضلع دو سب ڈويثرن بٹگرام اور الائي پر مشتمل ہے۔ یہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ان شہروں میں سے ایک ہے جہاں زیادہ تر لوگ پشتو اورگوجرى زبان 0بولتے ہیں۔

خوبصورتی

يہ ضلع اپني خوبصورتي بلند و بالا چوٹيوں، گھنے جنگلات، زرخيز ميداني علاقوں ، گنگناتي چشموں اور نديوں کے بدولت دُنيا بھر ميں مشہور ہے۔ چونکہ بٹگرام ضلع کا قلمرو کي اکثريتديہاتي ہے لہٰذالوگوں کا زيادہ تر دارو مدار زراعت اور جنگلات پر ہے۔ اکتوبر 2005 کے زلزلے میں شہر بری طرح متاثر ہوا۔

 

بٹگرام ضلع کا ایک گاؤں ڈیڈل

آجکل بٹگرام کے با شعور عوام خان اعظم کے خلاف اٹھ کھڑے ہو گئے ہیں تا کہ عوام ان ظالموں کے خلاف کامیاب ہو جائے اور ضلع بٹگرام کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ ترقی کی طرف لیجا کر اعلیٰ مقام پر کھڑا کر دیں۔

شماریات

بٹگرام ضلع کا کُل رقب1301 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 277 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 361000 تک پہنچ جائے گي۔

دیہي آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 24170 ھيکٹيرزھے

مانسہرہ

مانسہرہ شہر خیبر پختونخوا کا ضلع ہے ضلع مانسہرہ کا ایک شہر ہے۔ سبزہ زاروں، جھیلوں اور چراگاہوں کی یہ سرزمین 1976ء میں ہزارہ سے علاحدہ ہو کر وجود میں آئی۔ موجودہ ضلع بالا کوٹ، ایف آر کالا ڈھاکہ، مانسہرہ اور اوگی پر مشتمل ہے۔ ضلع کی جغرافایئی خصوصیات یہ ہے کہ اِس کی سرحدیں کشمر ، شمالی علاقہ جات اور مالاکنڈ ڈویژن سے ملی ہوئی ہیں۔ شاہراہِ ریشم اسی ضلع سے گزرتی ہے۔ تارییل طور پر ضلع مانسہرہ سید احمد شہید کی جنگ بالاکوٹ کی و جہ سے مشہور ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ہمہ گیر ترقی ہونے کے باوجود آج بھی لوگوں کا بڑا ذریعۂ معاش جنگلات ہیں جو لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی سنوارنے میں اہم کردار ادا کر ر ہے ہیں ۔ یہاں کے لوگ رجعت پسند اور اپنی اخلاقی قدروں کے بارے میں بڑے حساس ہیں۔ سیروسیاںحت اِس علاقہ کی تیزی سے ترقی کرنے والی منافع بخش صنعت ہے۔

ضلع کا کُل رقبہ4579 مربع کلومیٹر ہے۔ یہاں فی مربع کلو میٹر 296 افراد آباد ہیں جبکہ ضلع کی آبادی 1356000 تک ہے۔ دیہی آبادی کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ کُل قابِل کاشت رقبہ 80740 ہیکٹرز ہے

سکندر اعظم اور اشوکا

سکندر اعظم نے اس علاقے کا انتظام ابیسارس کے حوالے کر دیا، جو ریاست پونچھ کا راجہ تھا۔ مانسہرہ عرصہ دراز تک ریاست ٹیکسلا کا بھی حصہ رہا ہے۔ اشوکا اپنی ولی عہدی دور میں اس علاقے کا گورنر کا گورنر مقرر تھا، جبکہ اپنے والد بندوسارہ کی وفات کے بعد وہ سلطنت کا وارث ٹھہرا، اور مانسہرہ کے علاوہ گندھارا کا حکمران ہوا۔ آج بھی اس کے دور حکومت کی نشانی کے طور پر تین یا اس سے زائد چٹانیں جس پر اس کے حکمنامے نقش ہیں، مانسہرہ شہر میں کوہ بریڑی کے دامن میں اس کے دور حکومت کی یادگار کے طور پر موجود ہیں۔ ان نشانیوں سے یہ بھی واضع ہوتا ہے کہ یہ علاقہ کبھی مذہبی مرکز بھی رہا ہے۔ مانسہرہ کا نام "مان سنگھ" کے نام سے اخذ ہوا، جو ایک زمانے میں اس علاقے کا حکمران تھا۔ مشہور ریاست امب جو تنولی قبیلے پر مشتمل تھی، بھی مانسہرہ کا حصہ ہے، جس کی ریاستی حیثیت 1969ء میں حکومت پاکستان نے ختم کر دی تھی۔ گذشتہ ریاست امب اور ہزارہ کے مضافات کی تاریخ کافی پرانی ہے، جس کا تعلق سکندر اعظم کے ہندوستان پر حملوں سے ملتا ہے۔ آریان جو سکندر اعظم کا نامزد کردہ تاریخ دان تھا، نے کہیں بھی ریاست امب کے مرکز کی نشاندہی نہیں کی ہے، البتہ تاریخ میں یہ ضرور درج ہے کہ دریائے سندھ یا جسے یہاں مقامی طور پراباسین کے نام سے جانا جاتا ہے، کے دائیں کنارے پر آباد مرکز تھا، جسے سکندر اعظم نے وسائل کی ترسیل کے لیے مرکز کا درجہ دے رکھا تھا۔ یہی مرکز ریاست امب کا منبع کہلاتا ہے۔ 1854ء میں جنرل ایبٹ، جو برطانوی حکومت کے نامزد کردہ افسر تھے اور انھی کے نام پر ایبٹ آباد کا نام ہے، نے ریاست امب اور اس کے مرکز کی نشاندہی بونیر کے جنوبی علاقے میں کی ہے۔ ان کے مطابق رنجیت سنگھ کے وقت سے امب کا موجودہ گاؤں جو دریا سندھ یا اباسین کے دائیں کنارے پر واقع ہے کو ہی اس کا مرکز تھا۔ یہ مرکز مہابان کے علاقے سے تقریباً 8 کلومیٹر مشرق میں واقع علاقہ تھا، جہاں سے ریاست امب کے نوابوں نے اپنا نام منتخب کیا۔

ہندو شاہی اور کشمیر

دوسری صدی عیسوی میں ایک ہندہ راجہ، راجہ رسالو جو راجہ سلباہان کا بیٹا تھا اور اس کا تعلق سیالکوٹ سے تھا نے اس علاقے پر قبضہ کیا۔ یہاں کی مقامی آبادی میں راجہ رسالو اب بھی افسانوی داستانوں میں زندہ ملتا ہے۔ چینی سیاح ہیان تسانگ کے درج شدہ بیان کے مطابق کہ جب اس نے اس دور میں یہاں دورہ کیا تھا تو یہ علاقہ درلاباوردھانا، جو ریاست کشمیر کا حکمران تھا کے قبضے میں تھا۔ ترک راج اور ہندو راج پے در پے اس علاقے پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں جبکہ حکمرانی بھی اسی طور منتقل ہوتی رہی ہے۔ ہندو شاہی میں راجہ جے آپالا نے زیادہ شہرت پائی جسے محمود غزنوی نے اپنی پہلی ہندوستانی مہم کے دوران شکست دی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخ میں کہیں بھی محمود غزنوی کے مانسہرہ میں قیام یا یہاں سے گذد کے ثبوت میسر نہیں ہیں۔ گیارھویں صدی میں ہندو شاہی کے خاتمے کے بعد کشمیریوں نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا، جب وہاں کا حکمران کلشان تھا۔ ۱۱۱۲ سے ۱۱۲۰ تک راجہ سوسالا نے یہاں حکمرانی کی۔ بارہویں صدی میں اصلات خان نے اس علاقے کو اپنی فوجی مہم میں فتح کیا، جبکہ اس کے جانشین غور محمد کے بعد ایک بار پھر یہ علاقہ کشمیریوں کے ذیر اثر آگیا۔

ترکوں کا راج

۱۳۹۹ میں، عظیم مسلمان جنگجو تیمور نے کابل سے واپسی پر اپنے ترک فوجیوں کو مانسہرہ میں تعینات کیا تا کہ اس اہم راستے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے جو کشمیر کو کابل سے ملاتا ہےؕ۔ تاہم، ۱۴۷۲ میں شہزادہ شہاب الدین نے کابل سے یہاں کا رخ کیا اور صحیح معنوں میں اپنی عملداری قائم کی۔ شہاب الدین جو وسط ایشیائی شہزادہ تھا اس نے پکھلی سرکار کے نام سے یہاں ایک ریاست کی بنیاد رکھی اور گلی باغ نامی قصبے کو اس ریاست کا مرکز بنا دیا۔ مغل دور میں یہی ترک جرنیل جو اس ریاست میں تعینات تھے، اس علاقے میں مغل عملداری کے پاسبان تھے۔ درحقیقت یہی علاقہ اور راستہ کشمیر کا سلطنت ہندوستان کا مرکز کے ساتھ رابطے کا ذریعہ تھا اور شہنشاہ اکبر نے اسی راستے کا استعمال کیا۔ شہنشاہ اکبر کی حکمرانی کے آخری حصے میں ترک سلطان حسین خان نے اس علاقے پر حملہ کیا اور مغل حکمرانوں کو دعوت جنگ دی۔ حملے کا جواز سلطان حسین خان نے اندرونی معاملات میں مرکز کی مداخلت کو قرار دیا۔ پہلے تو مغلوں نے سلطان کو ہندوستان سے جلاوطن کیا لیکن بعد ازاں اسے معافی اور علاقے کی عملداری عطا کر دی گئی۔ ترکوں کی نسلیں اب مانسہرہ، الائی، ایبٹ آباد، بٹگرام، ہری پور، اوگی، گدون، اور تهاکوٹ میں آباد رہیں۔

سکھوں کی آمد اور سواتیوں کی حکمرانی

پشتونوں اور ان کے حامیوں کے پے در پے حملوں کی وجہ سے بالآخر ترکوں کی عملداری ختم ہو گئی۔ ۱۷۰۳ میں ترکوں کو سید جلال بابا کی سپہ سالاری میں سواتیوں کے ایک بڑے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ سید جلال بابا ترکوں کے آخری سلطان محمود کرد کے داماد تھے۔ اپنے سسر کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سید جلال بابا نے سواتیوں کی مدد سے ریاست پکھلی سرکار پر اپنا تسلط قاؕئم کیا۔ ترک شکست کے بعد تناول کے پہاڑی علاقوں اور ہزارہ کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ترکوں کے پاس چند علاقوں کی عملداری بہر حال موجود رہی، جہاں وہ اپنے آپ کو راجہ کہلا کر حکمرانی کرتے رہے۔ احمد شاہ درانی کی حکومت جب پنجاب میں بھی قائم ہو گئی تو ضلع مانسہرہ کا علاقہ بھی اس میں شامل تھا۔ درانی نے یہی بہتر سمجھا کہ مقامی قبائلی سرداروں کی مدد سے اس علاقے پر حکمرانی کی جائے، اس ضمن میں سادات خان جن کا تعلق گڑھی حبیب اللہ سے تھا، کافی مشہور ہوئے۔ درانیوں کی حکمرانی اس علاقے پر اٹھارہویں صدی کے اوائل تک رہی۔ تنولی قبائل نے اپنی عملداری تناول علاقہ میں قائم کر رکھی تھی اور کافی مہم جوئیوں کے بعد بھی درانی علاقہ تناول پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا۔ اس ضمن میں درانیوں کے متعلق حقائق میجر ویس نے ۱۸۷۲ میں اپنی تصانیف جو ہزارہ کی سرکاری رپورٹ پر مشتمل تھیں میں درج کی ہی٘ں۔ مختلف ادوار میں ہوئی تبدیلیاں اور نقشوں کی مدد سے مختلف حکمرانوں کی آمد اور حملوں کو واضع کیا گیا ہے۔ اسی تصنیف میں ریاست امب کو ملک تناول کے نام سے دکھایا گیا ہے۔ تنولی قبیلوں نے کبھی بھی درانیوں کی حکمرانی کو تسلیم نہ کیا اور ریاست امب کے نواب جو پائندہ خان کے والد تھے نے ہمیشہ درانی فوجوں سے ٹیکس وصول کیا جب وہ تناول کے علاقے سے گذرنے والے راستے استعمال کرتے۔ انھی کی سربراہی میں اہل تناول نے درانیوں کو شکست دی لیکن نواب کی موت ایک درانی شاہ جو سردار عظیم خان درانی کے نام سے جانے جاتے تھے کے ہاتھوں ۱۸۱۸ میں ہوئی۔ درانیوں کی حکمرانی ختم ہونے کے بعد سکھوں نے رنجیت سنگھ کی سربراہی میں اس علاقے پر اپنی عملداری قائم کی۔ مانسہرہ پر سکھوں کا قبضہ ۱۸۱۸ میں ہوا، اور اس علاقے کو انتظامی طور پر پنجاب کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ سید احمد شہید اور ان کے ساتھیوں کی مہمات کے سبب اس علاقے میں ۱۸۳۱ تک سکھوں اور پشتونوں میں جھڑپیں جاری رہیں اور بالاکوٹ کے مقام پر آخری معرکے میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید سمیت بڑی تعداد میں مجاہدین نے شہادت پائی اور یہ علاقہ مکمل طور پر سکھوں کے قبضے میں چلا گیا۔ رنجیت سنگھ کے بعد سکھوں کی حکومت اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور اسی اثناء میں انگریزوں نے پنجاب کی حکمرانی سنبھال لی، مانسہرہ بھی اسی طور برطانوی ریاست کا حصہ بن گیا۔

برطانوی راج

۱۸۴۹ میں حکومت برطانیہ نے مانسہرہ پر اپنا تسلط قائم کیا، لیکن مغربی پشتون قبائل کو زیر کرنے میں ناکام رہے۔ یہ قبائل وادی الائی، بٹگرام اور وادی نندھیار اور کالا ڈھاکہ میں آباد تھے۔ ۱۸۵۲ میں، تین سال کے جزوی امن کے بعد زمان شاہ جن کا تعلق کاغان سے تھا نے برطانوی تسلط کے خلاف مہم جوئی کا آغاز کیا، لیکن جیمز ایبٹ نے اپنی فوج کی مدد سے زمان شاہ کی اس مہم جوئی کو ناکام بنا دیا اور انھیں پکھلی کے میدانوں میں جلاوطن ہونے پر مجبور کر دیا۔ لیکن بعد ازیں انھیں معافی ملی اور ان کا علاقہ انھیں واپس کر دیا گیا۔ ۱۸۵۲ سے لے کر ۱۸۹۲ تک برطونوی حکمرانوں نے سرکش پشتون قبائل کے خلاف مہمات جاری رکھیں۔ برطانوی راج کے دوران ضلع ہزارہ کو تین انتظامی تحصیلوں میں تقسیم کیا جو مانسہرہ، ایبٹ آباد اور ہری پور پر مشتمل تھیں، اور انھیں پنجاب سے منسلک رکھا۔ بعد ازیں ۱۹۰۱ میں جب شمال مغربی سرحدی صوبہ بنایا گیا تو ضلع ہزارہ کو اس میں شامل کیا گیا۔ برطانوی راج کے دوران پشتونوں نے کبھی بھی حکومتی عملداری کو تسلیم نہ کیا اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ برطانوی حکومت نے ریاست امب کی خودمختاری کو تسلیم کیا، جبکہ ذیلی ریاست پھلڑہ کی بھی نیم خودمختاری جو امب کے نواب پائندہ خان کی طرف سے اپنے بھائی ماداد خان کے زیر اثر تھی برقرار رکھی گئی۔ اس ضمن میں ایک معاہدہ جو ریاست امب اور برطانوی راج کے مابین طے پایا کافی شہرت رکھتا ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مقامی طور پر پشتون، تنولی اور دوسرے قبیلوں نے ایک ساتھ جدوجہد کی۔ ریاست امب کے نواب سر محمد فرید خان کے قائد اعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خان کے ساتھ رابطہ برقرار رہا، جس کی مثال مختلف ادوار میں ہوئی خط و کتابت سے دی جا سکتی ہے۔ 1947ء میں جب تقسیم ہند کا مرحلہ درپیش تھا تو تمام قبائل اور ریاست امب نے متفقہ طور پر پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ 1969ء میں ریاست امب کی خودمختاری ختم کر کے اسے پاکستان کا حصہ بنا دیا گیا، جبکہ 1971ح میں شاہی ریاست امب کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ بھٹو دور میں مانسہرہ کو ضلع کا درجہ دیا گیا جس میں مانسہرہ اور بٹگرام دو تحصیلیں تھیں۔ بعد میں بالاکوٹ کو بھی تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ بٹگرام بعد ازیں ضلع کا درجہ پاگیا، جبکہ اب مانسہرہ میں تین تحصیلات، مانسہرہ، اوگی اور بالاکوٹ کی صورت میں موجود ہیں۔

 

جغرافیہ

مانسہرہ، شمال مغربی سرحدی صوبے کی مشرقی سرحد پر واقع ہے، جس کی پشاور سے فاصلہ تقریباً ۲۱۷ کلومیٹر جبکہ اسلام آباد سے یہ 195 کلومیٹر ہے۔

 

متصل علاقے

ضلع مانسہرہ کی سرحدیں شمال میں ضلع دیامر اور کوہستان، جنوب میں ایبٹ آباد، مغرب میں آزاد کشمیر کا ضلع نیلم، مشرق میں ضلع سوات جبکہ شمال مشرق میں ضلع بٹگرام اور ضلع بونیر سے ملتی ہیں۔

 

جھیلیں

ضلع مانسہرہ میں کئی چھوٹی اور بڑی جھیلیں ہیں، لیکن سیاحتی اور جغرافیائی لحاظ سے تین جھیلیں مشہور ہیں۔ ان میں جھیل لولوسر، جھیل دودی پت سر اور جھیل سیف الملوکشامل ہیں۔ یہ تینوں جھیلیں وادی کاغان میں واقع ہیں، جو تحصیل بالاکوٹ کا حصہ ہے۔

جھیل لولوسر ناران سے تقریباً 48 کلومیٹر دور واقع ہے جبکہ یہ سطح سمندر سے تقریبا 3325 میٹر بلند ہے۔ یہ جھیلاطراف میں جنگل سے گھری ہوئی ہے، جبکہ اس کے ارد گرد واقع جڑی بوٹیوں کے جنگلات ملکی شہرت کے حامل ہیں۔ یہ جھیل دریائے کنہار کا منبع بھی قرار دی جاسکتی ہے۔ جھیل دودی پت سر بند شکل میں خوبصورت برف پوش چوٹیوں میں گھری ہوئی جھیل ہے۔ یہاں تک رسائی انتہائی مشکل اور دشوارگذار کام ہے۔ اس جھیل تک رسائی کے لیے کم از کم سات سے بارہ گھنٹے تک انتہائی مشکل اور دشوار گزار گھاٹیوں میں پیدل سفر کر کے ہی ممکن ہے۔ جھیل کے اطراف میں چراہ گاہیں اور ہرا پانی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ضلع مانسہرہ کی سب سے مشہور اور خوبصورت جھیل سیف الملوک ہے، جس کا نام یہاں مشہور ایک افسانوی داستان، قصہ سیف الملوک کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ قصہ ایک فارسی شہزادے اور ایک پری کی محبت کی داستان ہے۔ جھیل سیف الملوک وادی کاغان کے شمالی حصے میں واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریبا 3244 میٹر بلندی پر واقع ہے۔

ایبٹ آباد

ایبٹ آباد، ضلع ایبٹ آباد کا صدر مقام اور صوبہ خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک اہم شہر ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 4120 فٹ ہے۔ راولپنڈی سے 101 کلومیٹر دور یہپاکستان کا پرفضا مقام ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی 881,000 افراد پر مشتمل ہے اور 94 فیصد افراد کی مادری زبان ہندکو ہے۔

تعلیمی ادارے

ایبٹ آباد میں کئی مشہوراسکول اور تعلیمی ادارے ہیں۔ برطانوی دور حکومت میں قائم شدہ آرمی برن ہال کالج اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول ان میں اہم تعلیمی ادارے ہیں جو فوجی اور سول تعلیم کے لیے پاکستان میں شہرت رکھتے ہیں۔پاكستان كے شہر كراچی كو جس طرح روشنيوں كا شہر كہا جاتا ہے اسي طرح ايبٹ آباد كو بھی اسكولوں كا شہر كہا جاتاہے۔تعليمی سرگرميوں ميں ہميشہ پيش پيش رہا۔ صوبہ خیبر پختونخوا كےہر علاقے سے ہر سال سيكڑوں بچے پڑھنے آتے ہیں۔

سیر و تفریح

ایبٹ آباد اپنے پرفضا مقامات کی وجہ سے مشہور ہے۔ مشہور قراقرم ہائی وے ایبٹ آباد ضلع کے مقام ہری پور سے شروع ہوتی ہے۔ سر سبز مقامات سے گھرے ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں بھی موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ مظفراباد ، خنجراب، ہنزہ، گلگت، سکردو جانے کے لیے ایبٹ آباد ایک جنکشن کا کام دیتا ہے۔ اہم تفریحی مقامات میں 'ایو ہبیہ' رنو،عزیز آباد ،باغ بانڈی بگنوتر نورمنگ نمبلی میرا گیہ کالاباغ نتھیا گلی بیہ مانسہرا ،کلندرآباد ،ناراں،کاغان جیسے مکامات بھی ہزارہ کو اور بھی دلکش بنا دیتے ہیں ایوبیہ بھی' شامل ہے۔ یہ علاقہ چار چھوٹی پہاڑیوں پر مشتمل ہے اور سابق صدر پاکستان جناب ایوب خان کے نام پر اس علاقے کانام رکھا گیا۔ یہ علاقہ 26 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور علاقے کی سیر کے لیے چیر لفٹ ہے جس سے علاقے کا نظارہ کیاجا سکتا ہے۔ ٹھنڈیانی، جس کا مطلب مقامی زبان میں سرد ہے ایک اہم تفریحی مقام ہے۔ پائن درختوں کے جھنڈ میں یہ ایک سطح مرتفع پر مشتمل پرفضا مقام ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 2700 میٹر ہے۔ ایبٹ آباد شہر سے اس کی دوری 31 کلومیٹر ہے اور ایبٹ آباد سے آسانی کے ساتھ وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ شام کے وقت ایبٹ آباد شہر کی روشنیاں وہاں سے صاف دکھائی دیتی ہیں۔ مشرق کی طرف دریائے کنہار کے پرے کشمیر کی برفیلی پہاڑیان نظر آتی ہیں۔ ايبٹ آباد شہر كے علاوہ اس كے گاؤں بہي صاف اور پرفضاء ہيں ۔ايبٹ آباد كے مشہور گاؤں ميں مالسہ جو ایک وادی نما خطہ ہے بہت خوبصورت ہے۔ ايك ستوڑہ گاؤں ہے۔ جو ايبٹ آباد سے 15 كلو ميٹركے فاضلہ پر ہے ۔ یہ چاروں طرف سےخوبصورت پہاڑوں کے درمیان میں واقع ہے یہ پیالہ نما وادی ہے یہ ضلع اایبٹ آبادکا سب سے بڑا گاؤں ہے وادی ستوڑہ میں قوم کڑال کے لوگ آباد ہیں۔ میران جانی ضلع کا سب سے اونچا مقام ہے-

ہری پور

ہری پور شہر کی بنیاد1821ء میں سکھ جنرل ہری سنگھ نلوہ نے فوجی نقطہ نظر سے رکھی۔ ہری پور شہر میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا جس کی دیواریں 4 میٹر چوڑی اور16 میٹر اونچی تھیں۔ قلعہ میں داخل ہونے کے لئے چار دروازے تھے۔ ہري پور کا نام رنجيت سنگھ کےايک سِکھ جرنيل ہری سنگھ نالوا کے نام پر رکھا گيا۔ ہری پور تحصيل کو يکم جولائی 1992ء ميں ضلع کا درجہ دے کر ضلع ايبٹ آباد سے علیحدا کر دياگيا۔

ہری پور میں تصوف

ہری پور میں بھی بہت سے صوفی ہیں -یہاں کچھ پرانے نام ہیں۔

بابا عبدالمالک شاہ حقانی قادری مشہدی کاظمی کا گ شریف

بابا شیر شاہ غازی قادری مشہدی کاظمی داڑی شریف

شاہ جمال بادشاہ قادری مشہدی کاظمی داڑی شریف

شاہ سلطان بادشاہ قادری مشہدی کاظمی داڑی شریف

بابا سخی سید مراد حسین شاہ غازی قادری مشہدی کاظمی

بابا سجاول بادشاہ

خواجہ عبدالرحمان

جغرافیہ

یہ شہر اسلام آباد سے 65 کلومیٹر اور ایبٹ آباد سے 35 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس ضلع کو جغرافيائی محلِ وقوع کے لحاظ سے کليدی حيثيّت حاصل ہے۔ کيونکہ يہ ضلع ہزارہ ڈویژن اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے مابين ايک پھاٹک کا درجہ رکھتا ہے۔ دنيابھر ميں مٹی کا بنا ہوا سب سے بڑا بند تربیلا بند اسی ضلع ميں دریائے سندھ پر تعمير کيا گيا ہے. يہ ڈيم 2200 ميگاواٹ بجلی پيدا کرتا ہے۔ صنعتی لحاظ سے ہری پور صوبہ خیبر پختونخواہ ميں بڑ ا ضلع ہے بڑے بڑے صنعتی يونٹ جيسے ٹيليفون فيکٹری، ہزارہ فرٹيلائزر، پاک چائنا فرٹيلائزر، تربيلا کاٹن ملز اور کئی اُونی کارخانے قائم ہيں۔ علاوہ ازيں حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ميں کئی چھوٹے بڑے کارخانے لگائے گئے ہيں۔ ان صنعتوں کي وجہ سے يہ ضلع ملکي سطح پر معاشی ترقی ميں ايک اہم کردار ادا کر رہاہے۔ ہری پور نے جہاں درميانی اور بڑی صنعتوں کے قيام ميں اہم پيش رفت کی ہے وہاں زرعی ميدان ميں بھی اس کاکردار قابلِ ستائش ہيں۔ یہ ضلع خاص کر سبزی اور پھل نہ صرف پشاور بلکہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کو بھی مہياکرتا ہے۔ پشاور سے اسلام آباد موٹر وے اور غازی بروتھا بندپراجيکٹ کے قيام سے ضلع کی سماجی اور معاشی ترقی مزيد يقينی ہونے کا امکان ہے۔

شماریات

ہری پور ضلع کا کُل رقبہ1725 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلو میڑ 466 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 803000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 77370 ہيکٹيرزھے

ہسپتال

سرکاری ہسپتال

ضلع ہسپتال ہری پور جی ٹی روڈ

ضلع ہسپتال ڈھینڈہ روڈ

فوجی فاونڈیشن ہسپتال ڈھینڈہ روڈ

غیر سرکاری ہسپتال

الغازی ہسپتال

یحیٰی ہسپتال

شاہ فیصل ہسپتال

عباسی فاؤنڈیشن کھلا بٹ

ضلع بونیر

بونیرخیبر پختونخوا کا ایک ضلع ہے۔ اس کو 1991ء میں ضلع کا درجہ ملا جس سے پہلے اس حیثیتضلع سوات کی ایک تحصیل کی تھی۔

تحصیلیں

ضلع بونیر چھ سب ڈویژن پر مشتمل ہے۔

ڈگر

گدے زئی

چغرزئی

گاگرا (بونیر)

چملہ

طوطالئی

اس ضلع کو ہُنرمند افرادی قوت، خوبصورت قدرتی مناظر، گھنے جنگلات اور معدنی دولت کی وجہ سے ملا کنڈ ڈویژن میں مرکزی حیثّیت حاصل ہے۔یہاں زیادہ تر لوگ پشتو زبان بولتے ہیں۔ تعلیمی اور کاروباری حوالے سے یہ ضلع خیبر پختون خواہ کے ترقی یافتہ اضلاع میں شمار ہوتاہے۔

شماریات

بونیر ضلع کا کُل رقبہ1865 مربع کلومیٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلو میٹر 352 افراد آباد ہیں۔

مئی 2004ء میں ضلع کی آبادی 656000 تک پہنچ گئی۔

دیہی آبادی کا بڑا ذریعۂ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 55420 ہیکٹیرز ہے۔

صوابی

خیبر پختونخوا کا ایک ضلع اور تحصیل۔ صوابي اپنے ضلعي صدر مقام کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جون 1988 تک یہ ضلع مردان کا حصہ تھا۔ بعد ميں یہ ضلع مردان سے علاحدہ ہو گیا۔یہ ضلع تحصيل صوابی اور تحصيل لاہور پر مشتمل ہے۔ قبائلی علاقہ گدون بھی اس میں شامل ہے۔اس علاقے نے جنگ آزادی کے بڑے جرار ،نامور اور بڑے عالم و فاضل پیدا کیے۔ اسکے علاوہ صوابی کی موجودہ تاریخ کرنل شیر خان شہید کے ذکر کے بغیر نا مکمّل ہے۔

ضلع صوابی مُلکي سطح پر ايک زرخيز زمين ہے۔جو گنے ،مکئي اور تمباکو کي فصل کيلئے بہت زيادہ مشہور ہے۔آزادي سے پہلے يہاں چيني اور تمباکو کے کارخانے موجود تھے۔پورے صوبہ خیبر پختونخوا ميں چيني اور تمباکو کے کارخانو ںکا انحصار اس ضلع کي پيداوار پر ہے۔ ضلع کا بيشتر حصہ ديہي نوعيت کا ہے۔ليکن حکومت کي

گدون آمازئی کا صنعتی علاقہ بھی علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حال ہي میں غلام اسحق خان انسٹيٹيوٹ ٹوپي کے قيام نے علاقے کي ترقي کو مزيد چار چاندلگاديئے ہيں۔ دوسرے آبپاشي والے اضلاع کي طرح اس ضلع کو بھي سيم و تھور کا خطرہ لاحق ہے۔اس معاشي مسئلہ کے سدباب کيلئے صوابي سکارپ کافي عرصہ سے کوشاں ہے۔

تحصیلیں

لاہور ۔ اس چھوٹی۔ سی بستی۔ کی۔ تاریح کے متعلق حیال کیا جاتا ہے کہ یہ تاریحی ورثے۔سے مالا مال۔ ہے ۔ اسے عرف عام میں چھوٹا لاہود نام سے بھی شہرت حاصل۔ ہے۔

رزار

ٹوپی

تورڈھیر

شماريات

ضلع کا کُل رقبہ 1543 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 873 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 1253000 تھی

دیہي آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔

کُل قابِل کاشت رقبہ87050 ہيکٹيرزھے

مردان

مردان (Mardan)خیبر پختونخوا کا مشہور اور پاکستان کا امیر ترین ضلع ہے۔ جسے مہمان نوازی کے شہر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔مردان صوبہ خیبر پختونخوا کا صدر مقام ہے۔اس میں ایشیا کا سب سے بڑا شوگرمل ہے۔اور یہ پشاور سے 60 کلومیٹر کےفاصلے پر واقع ہے۔مردان کا وجہ تسمیہ صوفی بزرگ پیر مردان شاہ کے نام سے ہے۔جو اسلام کی تبلیغ کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ضلع مردان میں بدھ مت مذہب کے بڑے آثار قدیمہ تخت بھائی اور جمال گڑھی میں ہیں۔جس کے دیکھنے کے لیے پورے پاکستان سے ہزاروں لوگ یہاں آتے ہیں۔ مردان کے مشہور شہروں میں کاٹلنگ طورو اور تخت بھائی ہے۔اس میں رہنے والے زیادہ تر لوگ مہمند اور یوسف زئی قوم کے ہیں۔پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کا مایہ ناز کھلاڑی اور سابق کپتان یونس خان نے اسی شہر میں آنکھیں کھولیں ہیں۔

مالاکنڈ

یہ مضمون ضلع مالاکنڈ کے بارے میں ہے،اکثر مالاکنڈ سے مراد مالاکنڈ ڈویژن لیا جاتا ہے لہذا مضمون مالاکنڈ ڈویژن سے مغالطہ نہ کھائیں

صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک ضلع۔ مالاکنڈ ايجنسی 1970 ميں م کےنتيجے ميں معرضِ وجود ميں آئي۔ اس سےپہلے مالاکنڈ ايجنسی کا انتظام وفاقی حکومت کے زير نگرانی تھا۔ 1970 دير، چترال اور سواتکی رياستوں کے اِدغام ميں يہ قبائلی علاقہ صوبائی حکومت کے زيرانتظام آيا۔ شمالی علاقوں کے راستے ميں ہونے کيوجہ سے مالاکنڈ ايجنسی کو تاريخی لحاظ سے خاص اہميّت حاصل ہے۔ یہاں پشتو زبان بولی جاتی ہے۔ درگئی فورٹ اور مليشيائي فوج سے بھی درگئي کي اہميّت واضح ہے۔ صوبائي کنٹرول ميں آنے کےبعد اس ضلع کي تجارت ميں کافي تبديلياں آئيں ۔ملاکنڈ قبائلي اور ديہي حيثّيت رکھتا ہے۔

شماریات

ضلع کا کُل رقبہ 952 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 596 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 567000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 45660 ہيکٹيرز ہے۔

 

ضلع دیر زیریں

لوئر دیر یا دیرِ زیریں پاکستان کے صوبےخیبر پختونخوا کا ایک ضلع ہے ۔دیر زیریںپاکستان کے بہت سے خوبصورت علاقوں میں بھی شمار ہے۔دیر زیریں اسلام آباد سے 265 کلومٹر اور پشاور سے تقریبا 180 کلو مٹر شمال میں واقع ہے۔

تاریخ

ریاست دیر ایک نوابی ریاست ہوتی تھی جو اب دیر زیریں اور دیر بالا میں تقسیم کیا گیا ہے۔اس پر نوابوں کا راج ہوا کرتا تھا ۔ برطانوی راج کے وقت میں اسے اس کے وارثوں کو ہی سپرد کیا گیا تھا اور قریب ایک صدی سے زیادہ نوابوں کا محکوم رہا۔ پھر جب یہ پاکستان کے ساتھ مل گیا تو اسے 1970ء ميں مالاکنڈ ڈويژن ميں ضم کر دياگيا۔ يہ ضلع خوبصورت مناظر، جنگلات، معدني دولت اور محنت کش افرادي قوت کي وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ لوئرديرکو اگست 1996ء ميں مالاکنڈ ڈويژن کے ايک عليحدہ ضلع کي حيثيت دي گئي۔ لوئرديردو سب ڈویژن تیمرگرہ اور جندول پر مشتمل ہے۔ذرائع معاش ميں کھيتي باڑي اورتجارت کو مرکزي حيثيت حاصل ہے۔

جغرافیہ

دیر ایک خوبصورت وادیوں کا مجموعہ جو مشرق میں سوات ،مغرب-جنوب میں قبائلی علاقہ جات، شمال میں دیر بالا سے لگا ہوا ہے اور جنوب میں مالاکنڈ سے۔صوبہ خیبر پختونخوا کے 26 ضلعوں میں سے ایک اہم ضلع ہے۔ یہاں کے مناظر دلکش اور خوشگوار ہیں۔اب و ہوا بالکل تندرست اور پانی بالکل میٹھا اور قدرتی ہے۔یہاں فصلیں بھی اُگتی ہیں جن میں گندم،جوار یا مکھئ ،اور چاول اہم فصلیں ہیں۔یہاں کے عوام سو فیصد مسلمان ہیں اور یہاں پر پشتو زبان بولی جاتی ہے۔

لوئر دیر پاکستان کے دیگر شمالی علاقوں کی طرح ایک قدرتی خطہ ہے جوکہ سرسبز وادیوں پہ مشتمل ہے تاہم حکومت پاکستان نے یہاں بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح، کسی قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بنائی ہے جس کی وجہ سے یہاں پہ سیر و تفریح کو فروغ نہیں ملتا۔ پشاور اور دیر کے دیگر آس پاس کے علاقوں سے تو یہاں لوگ سیروتفریح کے لئے آتے ہیں لیکن پاکستان کے دیگر صوبوں اور بین الاقوامی سطح سے آمد و رفت کم ہے جس کو فروغ دینے کہ ضرورت ہے۔

شماریات

ضلع کا کُل رقبہ 1583 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 570 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 903000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ,جنگلات اور ماہی گيری ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 116910 ہيکٹيرز ہے

Pakistan_Khyber_Pass_IMG_9928

Pakistan_Khyber_Pass_IMG_9928

Islamia_College_Peshawar_2

Islamia_College_Peshawar_2

Bala_Hisar_Fort

Bala_Hisar_Fort

Bab-e-Peshawar_Flyover

Bab-e-Peshawar_Flyover

800px-Masjid_Muhabat_Khan

800px-Masjid_Muhabat_Khan

Peshawar_university_road

Peshawar_university_road

Sunehri_maseet_da_booa

Sunehri_maseet_da_booa

Hayatabad_Pesh

Hayatabad_Pesh

چترال
دیر بالا
سوات
کوہستان
شانگلہ
بٹگرام
مانسہرہ
ایبٹ آباد
ہری پور
بونیر
صوابی
مردان
دیر زیریں
مالاکنڈ
چارسدہ

چارسدہ

 

چارسدہ (Charsadda) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک شہر اور ضلع چارسدہ کا ضلعی سردفتر ہے۔29 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

 

انتظام

ضلعی ہیڈکوارٹر ہونے کے ساتھ یہ چارسدہ تحصیل کا بھی ہیڈکوارٹر ہے. چارسدہ شہر 4 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ ضلع چارسدہ تین تحصیلوں پر مشتمل ہے، تحصیل چارسدہ،تحصیل شبقدر اور تحصیل تنگی۔

تاریخ

چارسدہ شہر چھٹی صدی قبل از مسیح سے دوسری صدی عیسوی تک گندھارا کا صدر مقام رہا۔ اِس کا قدیم نام پشکلاوتی ہے جس کا مطلب ہے ‘‘کنول کا شہر’’۔یہ گندھارا مملکت کا اِنتظامی مرکز تھا۔ تاریخ کے کئی اوقات میں مختلف حملہ آوروں نے اِس علاقے پر حکومت کی ہے. اِن حملہ آوروں میں فارسی، سکندر اعظم کے یونانی، موریائی، تُرک، کُشن اورہُنز وغیرہ شامل ہیں۔

فصلیں

تمباکو، گنا، گندم، مکئی اور چقندر یہاں کی اہم فصلیں ہیں. سبزیوں میں آلو، ٹماٹر، بينگن، بھنڈی، پالک اور دیگر سبزیاں اُگائی جاتی ہیں. جبکہ، یہاں کی پھلوں میں خوبانی، لیموں،آلوچہ، توت فرنگی اور آڑو بہت مشہور ہیں. یہاں پر املوک اور ابازئی کے علاقے میں ‍‍‍آم کے باغات بھی ہیں اور وہاں کے آم بھی مشہور ہیں۔

مشہور چیزیں

چارسدہ کی مشہور چیزوں میں سرفہرست رجڑ کی مٹھائی اور چارسدہ کی مشہور چپل ہیں۔ جبکہ یہاں کا گڑ بھی ملک اور بیرون ملک یکساں مشہور ہے۔

نظارہ


 شہر سے مشابہت رکھتی ہے۔دمشقچارسدہ کی زمین بہت زرخیز ہے اور خوبصورتی میں 

یہاں پر تین دریا بہتے ہیں: دریائے جندی، دریائے کابل (چارسدہ کے مقام پر اسے سردریاب کہتے ہیں) اور دریائے سوات (چارسدہ کے مقام پر اسے خیالے کہتے ہیں)۔ یہ تینوں دریا یہاں آبپاشی کے سب سے بڑے مآخذ ہیں۔

جامعہ باچاخان چارسدہ

جامعہ باچا خان (باچا خان یونیورسٹی چارسدہ) چارسدہ میں اعلیٰ تعلیم کا ایک عظیم ادارہ ہے۔ اس کا قیام ۳ جولائی ۲۰۱۲ میں عمل میں لایا گیا۔ اور اس کے قیام کا بنیادی مقصد تعلیم، تحقیق اور سیکھنے سکھانے کے عمل کو آگے کے طرف بڑھانا تھا۔ یہ تعلیمی ادارہ پروفیسر ڈاکٹر احسان علی کی نگرانی میں قائم ہوا اور پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحیم مروت اسکے پہلے وائس چانسلر بنے۔

منڈہ ھیڈورکس

منڈہ ھیڈورکس چارسدہ میں ابازئی کے مقام پر ایک ڈیم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سطح سمندر سے اس کی اونچائی 368 میٹر ہے۔

اہم شخصیات

خان عبدالغفار خان

خان عبدالجبار خان

عبدالغنی خان

عبدالولی خان

اسفند یار ولی خان

آفتاب احمد خان شیرپاؤ

مولانا حسن جان

حاجی صاحب ترنگزئی

مفتی سید عبداللہ شاہ صاحب

شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب

پروفیسر ڈاکٹراحسان علی

مشہور مقامات

سردریاب

دریائے خیالی

حصار ڈھیری، (آثریاتی مقام)

چارسدہ کا تاریخی قبرستان

مزید دیکھئیے

ضلع چارسدہ

چارسدہ تحصیل

خیبر پختونخوا

نوشہرہ

خیبر پختونخوا کا ایک ضلع ۔نوشہرہ پشاور کی پرانی تحصيل تھي۔ جس نے يکم جولائی1988کو ضلع کی حيثيت اختيار کی ۔اب يہ پشاورڈويژن کا تيسرا ضلع ہے جو پشاور ضلع سے جدا کيا گيا ہے۔

محل وقوع

يہ ضلع قومي شاہراہ پشاور تا پنجاب کے کنارے واقع ہے۔ محل وقوع کے لحاظ سے یہ ضلع تاريخي اہمیت کا حامل ہے۔يہ ضلع مرکزی ايشيا اور انڈيا کو ملانے والا دروازہ بھي کہلاتا ہے۔اور دریائے سندھ کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے باقی علاقوں پر فوقيت بھي رکھتا ہے۔

اہم شخصیات

يہ علاقہ تین ہم عصر علماء خوشحال خان خٹک ، کا کا صاحب اوران کے استاد شیخ اخوند ادین سلجوقی کے علاوہ پير مانکي شريف ،مولاناعبدالسلا م پىرسباق باباجى اورشیخ عبد المنان عرف شیخ جی مبارک وزیرگڑھی قاضی حسین احمد جيسے مذہبي پيشواؤں کي وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔يہ حقيقت ہے کہ پرانا ضلع پشاور نوشہرہ تحصيل کی وسيع صنعتی بنياد کی وجہ سے مشہور تھا۔ شروع سے یہاں بڑے بڑے صنعتی کارخانے قائم ہیں۔ اس ضلع میں اب رسالپور اور چراٹ بھي صنعتی اعتبار سے ترقی کر رہے ہيں۔جبکہ پشاور موٹروے ایم ون بھی رشکئی کے مقام پر اسی ضلع سے گزر رہا ہے

وزیر گڑھی باباجی روحانی پیشوا

وزیرگڑھی میں شیخ عبد المنان عرف شیخ جی مبارک وزیرگڑھئی باباجی کےمریدین آج بھی نہ صرف علاقہ پبی بلکہ درہ آدم خیل ،لنڈی کوتل،اکبرپورہ ،خوشمقام تک موجود ہیں آپ 1800 کی صدی میں وزیر گڑھی آئے اور 1920کو اس فانی دنیا سے رحلت کرگئے ،شیخ جی مبارک کا مزار انکے بنائی مسجد جامع مسجد محلہ شیخان وزیرگڑھی کے قریب قبرستان میں واقع ہے اور اس علاقے میں علم کی لگائی شمع آج مدرسہ قریۃ الہدیٰ کی صورت موجود ہے یہی وجہ ہے کہ وزیر گڑھی دینی تعلیم میں اپنی اہمیت رکھتا ہے اور مردو خواتین قران پاک کی تعلیم سے روشناس ہیں ۔وزیرگڑھئی باباجی کے متعلق مشہور ہے کہ وہ 18ویں صدی کے آواخر میں اپنے خاندان سمیت پشاور کے علاقہ ماشوخیل سے ہجرت کرکے یہاں آکر آباد ہوئے تھے اور انکی علمی و روحانی شخصیت ہونے کی وجہ سے اس علاقہ کے مکینوں نے اس خاندان کو انتہائی محبت دی اور وہی سلسلہ آج بھی جاری ہے

فوجی سنٹر

نوشہرہ فوجی ٹريننگ و تربيت گاہ اور ريلوے لوکو موٹو فيکٹری کي بناء پر بہت اعليٰ مقام رکھتا ہے۔یہاں دو فوجی سنٹر انجینئرنگ سنٹر اور سپلائی سینٹر موجود ہیں

اور ایک پاک فضائیہکا ٹریننگ سینٹر ہے

يہاںصنعتوں کو مزيد فروغ دینے کے زریںمواقع موجود ہيں۔ اس ضلع نے افغان مہاجرين کو پناہ دينے ميں بہت اہم کردارادا کيا ہے۔ يہاںافغان مہاجرين کو آباد کرنے کيلئے بڑے بڑے کيمپ بنائے گئے ہيں۔مضبوط صنعتي بنياد کےساتھ ساتھ بہترين افرادي قوت اورسياحوں کي دلچسپي کےلئے تاريخي مناظر موجود ہيں۔دريائے کابل نوشہرہ کے ساتھ بہتا ہے اور کنڈکے مقام پر دو درياؤں، دريائے کابل اور دريائے سندھ کا سنگھم ايک قابلِ ديد نظارہ پیش کرتا ۔

تحصیل پبی

تحصیل پبی نوشہرہ کے بڑے تحصیلوں میں شمار ہوتی ہے جو کم و بیش 47دیہات پر مشتمل ہے علاقہ جاتجلوزئی ,وزیرگڑھی ،امان کوٹ، تاروجبہ، اضاخیل، ڈاگ بہ سود،چراٹ ،ڈاگ اسمعیل خیل اہم مقامات میں سے ہیں ،زراعت کے لحاظ سے مشہور ہے جبکہ ٹرانسپورٹ بھی اس علاقہ کے مکینوں کا اہم ذریعہ معاش ہے۔

شماريات

ضلع کا کُل رقبہ 1748 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلو میٹر 608 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 1063000 تھی

دیہي آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے ۔

کُل قابِل کاشت رقبہ52540 ہيکٹيرزہے

کوہاٹ 

خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک شہر ضلع کوہاٹ واقع ہے ۔ کوہاٹ (انگریزی: Kohat) اپنے ضلعی صدر مقام کوہاٹ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ برِصغير کا ايک پرانا ضلع ہے جس کا ذکر بدھ مت کی قديم کتابوں ميں بھی ملتا ہے۔ عصرحاضر ميں بھی، پاکستان کی سب سے پرانی چھاؤنی، ائیربیس (جنگی اڈا زیر تعمیر)، گھنڈیالی اور تانڈا بند،شہراہ سندھ، ،دوستی ٹنل، فضائیہ اور سگنل تربیتی مرکز کی وجہ سے اس ضلع کو دفاعی اور جغرافیاعی لحاظ سے اہم مقام حاصل ہے۔اسکی سرحديں صوبہ پنجاب، ضلع نوشہرہ، اور کزئی ایجنسی، ضلع ہنگو اور ضلع کرک سے ملتی ہیں۔

 

فہرست

1فصلیں اور اجناس

2زبانیں

3مرکزی قبائل

4ذرائع نقل و حمل

4.1ریلوے

4.2ہوائی اڈا

4.3کوہاٹ سرنگ

5اہم مقامات(پکنک پوائینٹ)

 

فصلیں اور اجناس

سارا سال رواں چشموں کی یہ سرزمین مختلف اجناس اور پھلوں کیلۓ کافی زرخیز ہے۔ امرود کا پھل یہاں کی خصوصی پیدوار میں شامل ہے۔ کوھاٹ روایتی لحاظ سے ایک تجارتی مرکز ہے جو قبائلی علاقہ جات اور پنجاب کيلیے ايک اہم منڈی کی حيثيت رکھتا ہے۔اکثریتی بنگش قبائل کے یہ محنتی، بہادر اور ذہین لوگ ملازمت، ذرائع آمدورفت، کاروبار اور دفاعی امور میں کافی ماہر ہیں۔ اردو کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر احمد فراز کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ کوہاٹ میںہندکو اور پشتو زبان بولی جاتی ہے۔

 

تانڈا جھیل کوہاٹ

 

سیلاب میں تانڈا جھیل کوہاٹ

سید آدم بنوری اورحضرت حاجی بہادر بابا کا شمار روحانی شخصيات میں ہوتا ہے۔

عجب خان آفریدی آزادی کے ہیرو کا تعلق بھی یہیں سے ہے۔

زبانیں

کوہاٹ میں بنیادی اور مقامی طور پر دو بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

1. ہندکو تاریخی اعتبار سے یہ پنجابی زبان کی ایک شاخ ہے جو پوٹھواری اور سرائیکی زبانوں سے بہت حد تک ملتی جلتی ہے کوہاٹ کے مقامی باشندگان آپسی بول چال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔یہ زبان تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پشاور، ہری پور ، ہزارہ، ایبٹ آباد اور مانسہرا کے علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے۔ کوہاٹ کے شہری علاقوں کے علاوہ مغرب میں (شاہ پور، بڈھ اور جبی تک) جنوب میں (قمر ڈھنڈ، سورگل تک)، جنوب مشرق میں (خیرماتو، کوٹ، سیاب) اور مکمل مشرقی علاقوں (توغ،بلی ٹنگ سے خوشحال گڑھ) میں بولی جاتی ہے۔

2. پشتو کوہاٹ کی دوسری بڑی زبان ہے جو شہری علاقہ جنگل خیل میں بولی جاتی ہے اس کےعلاوہ مغرب میں (محمدزئی سے رئیسان) ، مشرق میں (توغ پایاں، پشتو گھنڈیالی، تولج)،جنوب میں (تپئی جرمااور مسلم آباد سے لیکر شکردرہ تک) اور شمال کے علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ افغان مہاجرین اور قبائلی لوگوں کے آمد سے حالیہ دہائیوں میں آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی کے بعد، پشتو زبان بولنے والے اکثریت میں ہیں۔

اردو"' قومی زبان ہونے کی وجہ سے اردو میں بھی بات کی جاتی ہے اور سمجھی جاتی ہے۔ سرکاری کالونیوں کے علاوہ شہر میں بھی بعض گھرانوں میں بولی جاتی ہے۔ایک طرح سے اردو یہاں کی تیسری بڑی زبان ہے۔

مرکزی قبائل

کوہاٹ کے مرکزی قبائل بنوری، بنگش، کوہاٹی، اورکزئی، خٹک، شینواری اور آفریدی ہیں

 

ریلوے اسٹیشن 1900ء

 

تحصیل گیٹ 1919ء

ذرائع نقل و حمل

ریلوے

کوہاٹ ریلوے اسٹیشن اور ٹریک کی تعمیر کا کام 1897ء میں شروع ہو کر 1902ء میں مکمل ہوا۔

بڑی ریلوے لائن کوہاٹ سے راولپنڈی (براستہ جنڈ ) جاتی ہے۔ اس ٹریک پر مسافر گاڑی چلا کر تی تھی جوکہ 2008ء سے بند ہو گئی ہے۔ اب صرف فوجی مقاصد کے لیے یہ ٹریک استعمال ہوتا ہے۔

اس طرح چھوٹی لائن جو کوہاٹ سے ٹل (براستہ ھنگو ) بچھائی گئی تھی وہ بھی 1991ء سے بند ہو گئی ہے۔ اس ٹریک کی تو پٹڑی تک اکھاڑی جا چکی ہے۔

مختصراً یہ کہ پاکستان ریلوے سے کوہاٹ کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔

وزیرِاعظم پاکستان کے حالیہ دورہء کوہاٹ سے ریل سروس بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے

ہوائی اڈا

کوہاٹ میں برطانوی دور کا ایک ہوائی اڈا موجود ہے جو اس وقت کی برطانوی فوج کی نقل و حمل کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس ہوائی اڈے کا کنٹرول آج بھی پاکستان ایئر فورس کے پاس ہے۔

'سڑکیں ' کوہاٹ اپنے چاروں اطراف سے سڑک کے ذریعے سے ملک کے باقی علاقوں سے جڑا ہوا ہے۔ انڈس ہائی وے(پشاور کراچی ہائی وے ) کی بدولت اس علاقے کی کافی ترقی ہوئی ہے۔ اس شاہراہ پر واقع ہوٹلز اور بس اسٹینڈ ز اور ان سے جڑے ہوئے کاموں کی وجہ سے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔ کوہاٹ یونیورسٹی کے پاس انڈس ہائی وے پر بہت سے کاروبار کھلے ہیں۔

" راولپنڈی روڈ پر بھی کافی ترقیاتی کام شروع ہیں خوشحال گڑھ کے مقام پر پل بھی مکمل ہو گیا ہے جس سے اس علاقے میں ترقی کے وسیع مواقع پیدا ہونے کی امید ہے اور یہی سڑک آگے پاڑہ چنار تک جانی ہے جس کا کوہاٹ ھنگو حصہ بھی مکمل ہونے والا ہے۔ جبکہ ٹل پاراچنار حصہ پہلے ہی مکمل ہے۔ ھنگو پھاٹک کے مقام سے اسی سڑک کو ھنگو روڈ کہا جاتا ہے۔ یہ پورا روڈ دراصلRCD روڈ کا حصہ ہے جو GT روڈ پر ترنول کے مقام سے الگ ہو کر پاراچنار تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

وزیرِ اعظم نے اپنے دورہء کوہاٹ میں راولپنڈی روڈ کو ڈبل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے -

شہر کے اندر بھی موجود سڑکوں کی جانب کافی توجہ دی گئی ہے۔ اور ان کی حالت بھی پہلے سے کافی بہتر ہو گئی ہے۔

کوہاٹ سرنگ

کوہاٹ ٹنل( پاک جاپان فرینڈشپ ٹنل ) جنوبی اضلاع کے لوگوں کا حکومت سے ایک بہت دیرینہ مطالبہ، جس پر 1999ء میں جاپان کے تعاون سے کام شروع ہوا۔

1.89 کلومیٹر طویل اس ٹنل منصوبے کو 2003ء جون میں مکمل کر کے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ اس سے جہاں کوہاٹ سمیت باقی جنوبی اضلاع کا پشاور سے فاصلہ کم ہوا وہیں بڑی گاڑیوں کو بھی سہولتیں ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے کوتل بائی پاس پر ان گاڑیوں کے لیے بہت مشکل حالات ہوتے تھے۔ اس ٹنل کی وجہ سے وقت اور جان ومال کی بھی بچت ہوئی ہے۔

24 فروری، 2008ء کو دہشتگردوں نے اس ٹنل کے راستے سیکیورٹی فورسز کے لیے سپلائی لیکر جانے والے ٹرکوں کے ایک قافلے پر حملہ کر دیا۔ یہ سپلائی جنوبی وزیرستان جا رہی تھی۔ 27 فروری کو فوج نے آرٹلری، ہیلی کاپٹرز اور ہیوی مشین گنوں کی مدد سے 24 دہشتگردوں کو مار کر ٹرکوں کو بازیاب کرا لیا۔ اس کے بعد سے ٹنل کا کنٹرول فوج کے پاس ہے۔

یہ ٹنل انڈس ہائی وے کا ایک اہم حصہ ہے جو کوتل بائی پاس کا متبادل اور شہروں کے درمیان میں فاصلے کم کرنے کا ذریعہ ،علاقے کی معیشت اور ٹریفک صورتحال کی بہتری میں بھی مددگار ہے۔

اس ٹنل پر 6626.75 ملین روپے لاگت آئی اور یہ منصوبہ 48 ماہ میں مکمل ہوا۔

ٹنل کی دونوں جانب ٹنل تک رسائی کے روڈ کی ٹوٹل لمبائی 29.8 کلومیٹر ( شمالی حصہ 7.7 کلومیٹر جبکہ جنوبی حصہ 22.1 کلومیٹر ) ہے۔

ٹنل کی لمبائی 1.89 کلومیٹر جبکہ چوڑائی 10.3 میٹر ( بلیک ٹاپ 7.3 میٹر اور کارنر 3 میٹر ) ہے۔

اہم مقامات(پکنک پوائینٹ)

تانڈا جھیل ایک خوبصورت پکنک پوائنٹ ہے، جو تاندہ ڈیم کنارے قدرتی ماحول اور حالت میں لوگوں کو تفریح فراہم کرتا ہے۔ عید اور دوسری تعطیلات بالخصوص موسم گرما میں لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتےہیں۔ مغرب میں کوئی 10کلومیٹر پر واقع شہرسے اس جھیل تک دو راستے آتے ہیں۔ایک شاھپور گاؤں سے، جبکہ دوسرا ھنگو بائی پاس (کالوخان بانڈہ) سے ھوکرآتاھے۔ دوسرا راستہ اپنےحسین مناظرکی بدولت بہت دلفریب ہے۔ (وادی، ندی، ندی کاپل،پہاڑ اور اس پر بل کھاتی سڑک) بہت ہی سرسبز علاقہ ہے۔ یہ دنیاکاواحد ڈیم ہے جوصرف600میٹر بند (جنوبی طرف)لگا کر بنایاگیاھے۔ باقی سب اطراف پہاڑ ہیں۔ جھیل سے نکلی نہروں کے ذریعے شاہپور، قمر ڈھنڈ، سورگل، چمبئی، جرما، تپی، میروزئی، ڈھوڈہ، کوٹ، خیرماتو، غلام بانڈہ، توغ، بہادرکوٹ ، کالوچنہ اور شیخان سمیت کوئی 30فیصد دیہات کوسیراب کیا جاتا ہے۔‏

کے ڈی اے پارک شہرسے متصل ترقیاتی اور انتظامی محکموں،اداروں کے دفاتر کے لیے مختص یہ (سرخ مٹی اور پتھروں کا تہ درتہ پہاڑی) علاقہ، ضلعی حکومت، ایکسائز آفس، بیت المال، پاسپورٹ آفس اور نادرا آفس سمیت ڈسٹرکٹ ہسپتال،کئی بینکوں اور ملٹی نیشن کمپنیوں کے دفاتر اور پرائیوٹ اسکولوں کی وجہ سے ماڈرن سٹی کا منظرپیش کرتاہے، جو انتظامی طورپر کوئی14سیکٹرزمیں تقسیم ہے۔ سکیٹر9میں بچوں اور خواتیں کے لیے دو بہت خوبصورت (کےڈی اے)پارک بناۓ گۓ ہیں۔ جہاں موجود بچوں کے جھولے، گھاس کےقطعے اور پھول خوبصورتی کودوبالا کرتے ہیں۔ پارک کےمغرب سےشہرکا نظارہ کیاجاسکتاھے۔ یہ منظر شام(غروب آفتاب) یا رات کو بہت حسین ہوتا ہے۔یہاں سے نیچےوالی پہاڑی پربنی بھورے رنگ کی ٹائلوں اور شیشے سے مزئین مسجد (گولڈن ماسق)کا نظارہ بھی دیدنی ہوتا ہے۔ صحن میں لگے فواروں، گھاس اور گارڈینا کی جھاڑیوں اور اردگرد بنے چھوٹے پارکوں نے مسجدکےحسن کو چار چاند لگا دیۓ ہیں۔ مسجد کے شمالی جانب والے دروازے سے وادی کا نظارہ بہت سحرانگیز ہے۔

ہرسیکٹر میں کھیلوں کے میدان ہیں۔ جن میں سیکٹر 6 کا کرکٹ گراؤنڈ ، سیکٹر 8 کا فٹبال گراؤنڈ اور سیکٹر 10 کا ہاکی گراؤنڈ بہت مشہور ہیں۔ ھر سیکٹر کی اپنی شاپنگ مارکیٹ ہے۔جہاں ضرورت کی اشیاء باآسانی ملتی ہیں۔

چشمہ جات یہ جگہ پرانے بس سٹینڈ کے پاس ہی ہے۔ ٹھنڈے، میٹھے پانی کے چشموں پر نہانے کا الگ مزہ ہے۔ ان چشموں کے علاوہ جنگل خیل گاؤں کے شمال میں زیارت(بینے بابا) کے دو مزید چشمے ہیں جن کاپانی بہت ہی ٹھنڈا ہے۔کیونکہ اس جگہ درختوں کی بہتات ہے۔‏

جوزارہ یہ جگہ شہر کے مغرب میں ھنگو روڈ پر کوئی 25کلومیٹر پر واقع ہے۔ یہاں کے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے انسان پر الگ ہی طرح کا سرور طاری کر دیتے ہیں۔ گرمی کی دوپہر میں یہاں آ کر ایک عجیب سا نشہ چھا جاتا ہے۔ اس جگہ کا اصل حسن پاس سے گزرنے والی بل کھاتی سڑک سے دکھائی دیتا ہے ۔ گھاس کے میدان، ریلوے لائن، چشموں کا شفاف پانی۔اور درختوں کے جھنڈ۔.۔.۔. اور یہ سب کچھ ایک دوسرے کے متوازی۔

ڈھوڈہ شریف شہر سے جنوب مشرقی طرف کوئی 22 کلومیٹر دور، یہ ایک بزرگ اور ولی اللہ کا مزار ہے، اس مزار کے پاس سے کوہاٹ توئی کا پانی ایک دریا کی صورت میں گزرتا ہے ۔ اس مقام سے پہلے گودی بانڈہ کے مقام پر کوہاٹ توئی میں ،کوہاٹ کے چشموں کا پانی شامل ہونے کی وجہ سے دریا کچھ تیز ہوجاتاہے۔ مرزا پر موجود درختوں اور دریا کی وجہ سے کچھ رونق ہوتی ہے۔

بادو زیارت یہ بھی چشموں اور دریا پر مشتمل پکنک پوائنٹس والی ایک جگہ ہے جو شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع ہے۔ کوہاٹ توئی جو ڈھوڈہ شریف کے پاس سے ہو کر گزرتی ہے اس جگہ پر موجود چشموں کے پانی سے اور بھی تند وتیز ہو جاتی ہے۔ چشموں کے اردگرد درختوں کے جھنڈ اور گھاس کے میدانوں پر لوگوں کے گروپ اپنے شغل میں مصروف ہوتے ہیں۔ اپنے ساتھ لائے ہوئے سامان سے پکوان تیار کر رہے ہوتے ہیں تو کوئی دریا یا چشموں سے شکار کی ہوئی مچھلی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مارچونگی گاؤں کے پار اس دریا کا نظارہ بہت دلفریب ہے۔ مگر یہ کنارہ صرف مچھلی کے شکاریوں کے لیے بہتر ہے کیونکہ یہاں پر کوئی سایہ دار درخت نہیں ہے ۔ صرف سردیوں میں کچھ گروپ یہاں آتے ہیں۔ یا پھر شام کے وقت کچھ چہل پہل ہوتی ہے۔

1924ء کے کوہاٹ فسادات یہ فسادات اپنی نوعیت کے بڑے سکھ ہندو مخالف فسادات تھے جو برطانوی ہند کے شمال مغربی سرحدی صوبے میں کوہاٹ شہر میں، 1924ء میں برپا ہوئے۔ فسادات کے تین دنوں (9–11 ستمبر) میں، 155 ہندو اور سکھ ہلاک ہوئے۔ ہندو اور سکھ آبادی کو جانیں بچانے کے لیے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ موہن داس گاندھی نے اکتوبر 1924ء میں 21 دنوں تک ہندو مسلم اتحاد کے لیے روزہ رکھا۔

ہنگو

صوبہ خیبر پختونخوا کا ضلع۔ پہلے پہل ضلع ہنگو کوہاٹ کی ايک تحصيل تھی۔ جو برِ صغير کی تاريخ ميں ايک بے مثال تحصيل سمجھی جاتی تھی۔ 30 جون، 1996ء کواِس تحصيل نے کوہاٹ سے عليحدہ ضلع کی حیثيت اختيار کی۔ يہ نيا تخليق شُدہ ضلع خوبصورت مناظر ، معدنی دولت اور جنگلات سے مالا مال ہے۔ اسکی افرادی قوت ہنرمندي اور جفا کشی اور دفاعی اُمور ميں خدمات انجام دے رہی ہے۔اس ضلع کے افراد اندرونِ ملک اور خليج کے ممالک ميں خدمات کی انجام دہی سے ملک کے لیےبہت سا زرِمبادلہ کمارہےہيں۔ جغرافيائی محلِ وقوع کی وجہ سے اس ضلع کو ايک اعلٰی مقام حاصل ہے۔ کيونکہ ايک طرف یہ ضلع کوہاٹ سے اور دوسری طرف اورکزئی اور کُرم ايجنسی سے مِلا ہوا ہے۔ انگريزوں کے دورِ حکومت ميں افعانستان کے ساتھ جنگ ميں ہنگو کا ذکر بکثرت پايا جاتا ہے۔ قبائلی اور بندوبستی روايات کی آميزش سے يہ لوگ تعليم يافتہ اور مہذّب ہیں۔ یہاں پر زیادہ تربنگش قبائل آباد ہیں۔ اوریہاں پر پشتو زبان بولی جاتی ہے۔ ضلع ہنگو میں کئی سال سے فرقہ وارنہ فسادات ہورہے ہیں۔ جس میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

شماریات

ہنگو ضلع کا کُل رقبہ1097 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلو میڑ 356 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کی آبادي 391000 تھی

دیہی آبادی کا بڑا ذرہعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 27430 ہيکٹيرزھے

مزید

ٹل

پاکستان کے شہر

خیبر پختونخوا کے شہر

کرک


 کا ایک بارانی اور خشک ضلع۔خیبر پختونخواکرک صوبہ 

کرک ،ضلع کوہاٹ سے یکم جولائی 1982ء کو الگ ہو کر ضلع کی حيثيت سے وجودميں آیا۔ اس ضلع کی مکمل آبادی ایک ہي قوم خٹک پر مشتمل ہے۔ یہ تين تحصيلوں ؛ کرک ، بانڈہ داؤد شاہ اور تخت نصرتی پر مشتمل ہے۔ ضلع کی سرحدیں ضلع بنوں ۔ کوہاٹ ۔ اور صوبہ پنجاب سے ملتی ہیں۔ کرک ضلع جٹہ علی خان خیل اور بہادر خیل میں نمک کی کانيں موجود ہيں۔چونکہ يہ ذخائربڑے علاقے پرپھیلے ہوئے ہيں لہذا اس کے مضر اثرات نے ضلع کی کمزور زراعت کو کمزور کر دیا ہے۔ اس ضلع کابڑا مسئلہ پانی ہے۔جو نہ صرف آبپاشی بلکہ پينےکےلئے بھي ناکافی ہے۔پہلے پشاور سے ڈ آئی خان جانے والی شاہراہ کرک شہر اور آباديوں سے فاصلے پر تھي۔ اب انڈس ہائی وے کرک ہي سے گزرتی ہے۔ جولوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگي ميں انقلابی تبديلياں لا رہي ہے۔ جغرافيائی خصوصيات کے لحاظ سے يہاں سخت بنجر ميد١ن کٹی پھٹی لمبی لمبی سلسلہ وار پہاڑیاں ہيں۔ يہاں کی افرادی قوت ذہانت اورسخت محنت کے صفات سے آراستہ ہے۔ جو ہماری دفاعي قوت کا ايک قيمتی سرمايہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر فوج کی نوکری ہے۔ اس علاقے نے بڑی بڑی نامور شخصيات پيدا کی ہيں۔ جن میں اسلم خٹک سابق وزیر مواصلات ۔ ظفر اعظم صوبائی وزیر قانون ، نوابزادہ محسن علی خان سابق صوبائی وزیر خزانہ ۔ علی قلی خان، ان لوگوں نے اپني ذہانت کی وجہ سے فنی و تعليمی اور تجارتی ميدان ميں کافی پيش رفت کی ہے۔ حال ہی میں گرگری کے مقام پر گیس کی دریافت بھی ہوئی۔

شماریات

ضلع کا کُل رقبہ 3372 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں فی مربع کلو میٹر 159 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کی آبادی 536000 تھی

دیہی آبادی کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 75430 ہيکٹيرزہے

 

 

 

 

 

 

 

بنوں

صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوب میں ضلع بنوں ایک اہم ترین خوبصورت شہر ہے۔جوکہ وزیرستان کے ساتھ واقع ہے۔ اس شہر کی بنیاد 1848میں ایڈروڈ نے ڈالی۔ برطانوی راج میں بنوں شہر کو ایک اہم سرحدی شہر کی حیثیت حاصل تھی۔بنوں ایک سرسبز شہر ہے عام لوگوں کا پیشہ کاشتکاری اور بھیژ، بکریاں چرانا ہے۔ اس کے علاوہ صنعتوں میں کپڑے اور گنے کے کارخانے بھی یہاں موجود ہے۔ علاقے کی مشہور سوغات نسوار اور مسالا جات اور مہندی ہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہاں کی مشہور شخصیات میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی اور سابق صدر غلام اسحاق خان شامل ہے۔ یہاں ایک یونیورسٹی چار ڈگری کالج ایک پولیٹکنیک کالج ، ایک کامرس کالج ، ایک ایلمنٹری کالج اور دس سے زیادہ ہائی سکولز ہیں۔اس کے علاوہ کرم گڑھی میں دو پانی کے بجلی گھر اور ایک پانی کا ڈیم باران ڈیم یہاں تعمیر کیے گئے ہیں۔

 

نہر کچکوٹ

بنوں جغرفیائی و تاریخی اورسیاسی لحاظ سے اہم مقام پر واقع ہے. بنوں ایک طرف افغانستان سے اور دوسری طرف پنجاب کے ساتھ ملا ھوا ہے۔اس لیے ماضی میں بیرونی فاتحین کی گزرگاہ رہا۔ یہ انڈیا تک رسائی کا مختصر مگر مشکل ترین راستہ تھا۔ بیرونی فاتحین مغربی دروں سے نیچے اتر کر بنوں سے ہوتے ہوئے آگے پنجاب پھر ہندوستان کا رخ کرتے ۔ ان فاتحین کے لیے بنوں معمول کاراستہ ہوتا تھا اور اکثر بیشتر بنوں فاتحین کا نشانہ بنتا ہر فاتح اسے زیر و زبر کرتا اور کافی نقصان پہنچاتا۔

ماضی میں بنوں افغانستان کا ایک صوبہ ہوا کرتا تھا مگر مرکز سے کٹا ہوا بہت دور واقع تھا۔ بنوں افغانستان اور ہندوستان کے سنگم پر واقع تھا یہ افغانستان کے انتہائی مشرقی کونے پر اور ہندوستان کے انتہائی مغربی کونے پر تھا گویا ہر دور میں بنوں مرکز سے کافی دور رہا اس لیے لحاظ سے بنوں ایک دورافتادہ وادی سمجھا جاتا تھا چونکہ یہ بیرونی فوجوں کی گزرگاہ کی زد میں رہا ہر دور میں تباہ برباد اور تخت وتاراج ہوتا رہا۔ تہذیب و تمدن اورتجارتی ترقی سے دور رہا ہمیشہ آزاد رہا۔ یا نیم آزاد رہا سو اپنے رسم و رواج کے مطابق یہاں کے لوگ زندگی بسر کرتے رہے۔ تاج برطانیہ کے قلمرو میں آنے سے پہلے باختر یعنی افغانستان کا ایک صوبہ تھا جس میں پنچاب کا بھی کچھ حصہ شامل ہوتا تھا۔ بنوں واحد ضلع ہے جہاں مغرب کی طرف کوئی شاہراہ نہیں ہے جیسے خیبر کی شاہراہ۔ لیکن اب اکرم خان درانی صاحب کی کوششوں سے غلام خون پھاٹک تک شاہراہ کی تعمیر پر کام ہو رہا ہے۔ اس شاہراہ کی تعمیر سے کابل تک فاصلہ خیبر کے مقابلے میں کئی سو کلو میٹر کم ہو جائے گا۔

 

شماریات

بنوں ضلع کا کُل رقبہ1227 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 666 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 817000 تھی

دیہي آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 74130 ہيکٹيرزھے

آکرہ

بعض کتابوں میں بنوں کے نام کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ بنوں والوں ( بنویوں ) کے جد امجد شاہ فرید (شیتک) جن کی تین بیویاں تھیں ان تینوں میں سے ایک کا نام بانو بتایا جاتا ہے۔ جب کہ باقی دو کے نام معلوم نہیں۔ بعض مورخین نے بنوں کے نام کی وجہ تسمیہ اسی بانو نامی خاتون کو گردانا ہے۔ جو بالکل غلط ہے کیوں کہ افغان معاشرہ خاتون کے نام کی تشہیر کبھی گوار نہیں کرتا اور اسے ہمیشہ صیغہ راز میں رکھتا ہے۔اور کسی کو اُس کی ماں یا بیوی سے منسوب کیا جائے تو وہ بہت برا تصور کیا جاتا ہے۔ اور اگر دیکھا جائے تو شیتک یہاں پر جب قبضہ کرنے کے لیے آئے تو یہاں پر پہلے سے منگل اور ہنی قبائل آباد تھے۔ اور وہ اپنے ساتھ قبیلے کے اور لوگ بھی لای۔ اس لیے یہ کہنا کہ سارے بانو وال صرف ایک ہی عورت یعنی بانو کی اولاد ہیں بالکل غلط ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ بنوں میں اولاد شیتک کی آمد سے قبل بنوں نام کا قلمرو یہاں موجود تھا۔ جس کا تاریخی نام بانا بنہ تھا۔ جو بعد میں بنوں پڑ گیا۔ اب بھی بنوں والوں سے پوچھا جائے تو بنوں کو اپنے لہجہ کے مطابق ہمیشہ بانا ہی پکارتے ہیں۔

آج سے تقریبا ڈیڑھ ہزار سال قبل ایک چینی سیاح ہیون سانگ نے اس کو بانا ہی لکھا ہے۔ فتوح البلاوان کے مصنف البلازڑی نے 44ھ میں بنوں کا ذکر کیا ہے۔ شہر آکرہ کے کھنڈر سے دریافت ہونے والے سکے گواہی دینے کے لیے کافی ہیں۔ کہ بنوں شیتکوں کی آمد سے پہلے بہت اہم تاریخی مقام تھا۔ اس کا اپنا ایک نام تھا۔ اور یہ کوئی بے نام جگہ نہیں تھی۔ تزک بابری میں 1005ء میں بنوں کو بنہ لکھا گیا ہے۔ اور مغربی مصنفین بنوں کو ہنہ( سرحد) کے نام سے یاد کرتے ہیں وجہ صاف ظاہر ہے ۔ ایک زمانے میں ہنہ باختری (کابل) کا ایک صوبہ رہا ہے۔ 1723ئ تک افغانستان کی قلمرو میں شامل تھا۔ گویہ یہ علاقہ افغانستان اور ہندوستان کے سنگم پر واقع تھا اس لیے جغرافیائی محل وقوع کے باعث اس علاقے کو بنوں کہا گیا۔


ایک اوربات کا امکان ہے کہ بنوں کی وجہ تسمیہ جنگلات کی بہتات ہو۔ کیونکہ بنوں (بن) کی جمع ہے۔ ایڈروڈ لکھتے ہیں پورے ہندوستان کے مقابلے میں بنوں میں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں اور یہاں شیشم اور توت کے گھنے جنگلات ہیں۔ بنوں سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی جنگل کے ہیں۔ بنوں کی قدیم آبادی ہندووں پر مشتمل ہوتی تھی۔ بنوں کے بعض دیہات کے نام بھی سنسکرت سے ماخوذ ہیں جیسے ککی اور بھرت وغیرہ ہوسکتا ہے کہ پرانے باشندوں نے اس کا نام کثرت جنگلات کی وجہ سے بنوں رکھا ہو۔

بنوں میں رہنے کی وجہ سے یہاں کے رہنے والوں کو بنوچی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس نام میں تحقیر کا پہلو پایا جاتا ہے۔ اگر اس نام کو بنوی پکارا اور اپنے نام کے ساتھ لکھا جائے تو بہتر ہے۔

زبان

بنوں میں 100 فیصد پشتون آباد ہیں۔ جس کی وجہ سے بنوں میں پشتو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔بنوں کی پشتو خوست اور قندہار کی پشتو سے بہت ملتی جلتی ہے۔ بنوں کے لوگ پشتو زبان سے انتھائی عقیدت اور محبت رکھتے ہیں۔اور پشتو کے لئے اپنی جانوں کی بھی پروا نہیں کرتے۔

تہذیب و ثقافت

مسجد

 

بنوں کا گاؤں چھ گڑھی ممش خیل

مسجد مسلمانوں کا ثقافتی ورثہ ہے جب حضور نے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجر ت فرمائی تو سب سے پہلے مسجد نبوی کی تعمیر عمل میں لائی گئی چنانچہ مسجد کی اہمیت مسلم ہے جہاں مسلمان نہ صرف پجگانہ نماز ادا کرتے ہیں ۔ بلکہ مسجد قومی و ملی یکجہتی کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔


ماضی میں بنوں کی ہر بستی بلند و بالا حصار میں محصور ہوتی تھی جو دفاعی اغراض کے لیے ضروری بھی تھا مگر نقصان یہ ہوا کہ ہر بستی کی اپنی مسجد اور اپنا قبلہ ہوا کرتا تھا اور صرف اس مسجد سے متعلقہ بستی کے بالغ مسلمان افراد ہی نماز ادا کرنے کے روادار ہوتے تھے جس سے قومی یک جہتی پر کاری ضرب لگی۔

طویل غلامی کے باعث ضمیر اور مزاج اتنا بدل چکا ہے کہ اب توہر بستی میں کئی ایک مساجد ہوا کرتے ہیں اور قومی یک جہتی اور اتحاد کا شیرازہ بری طرح سے بکھر چکا ہے اورقوم منتشر ہو چکی ہے ۔ اب ہم آزاد ہیں تو چاہیے کہ ہمارے رویوں میں انقلابی تبدیلی آجائے اور اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدوں کو ایک ہی وحدت میں ضم کر لیں اور کم از کم ایک بستی میں ایک ہی مسجد اور ایک ہی امام ہو۔

چوک، حجرہ، ڈیرہ

چوک سماجی مرکز ہوا کرتا ہے۔ چوک کے دو حصے ہوتے ہیں چوک اور دوسرا حجرہ ۔ ہر گاوں میں چوک کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ غمی و شادی دونوں موقعوں پر چوک کا استعمال ہوتا ہے خاص طور پر نماز جنازہ چوک ہی میں پڑھی جاتی ہے۔ فاتحہ خوانی بھی چوک میں سرانجام پاتی ہے۔ ماضی میں دوران فاتحہ خوانی بہت بڑا چلم جسے حقہ کہتے ہیں گردش میں رہتا تھا۔ اور لوگ حق کا کش لگاتے تھے چوک کے بیچوں بیج تمباکو بھرا چنگیر میز پر رکھا جاتا تھا یہ بد عادت اب متروک ہوچکی ہے ورنہ ماضی میں فاتحہ خوانی کو زینت بخشنے کے لیے چلم کا ہونا لازمی تھا۔ اب حقہ چوک سے ناپید ہوچکا ہے شاید لوگ کفایت شعار بن گئے ہیں یا باشعور۔

اب ریڈیو ٹیلی وژن اوروی سی آر نے ان محفلوں کی اہمیت کو ختم کر دیا ہے بعض اوقات محفل موسیقی کا بھی اہتمام ہوتا تھا جو کبھی کبھی اب بھی ہوتاہے۔ چوک میں بھاری بھرکم چارپائیاں ہوتی تھیں ہر چوک کی صفائی کے لیے ایک جاروب کش بھی مقرر ہوتا تھا مگر اب یہ چیزیں عنقا ہو چکی ہیں۔ چوک کااحاطہ محدود ہونے لگا ہے کونے کھدروں میں نئے نئے بیٹھک بن گئے ہیں اب اجتماعیت محدود ہو کر رہ گئی ہے ماضی کی یادیں خواب دکھائی دے رہی ہیں انفرادیت کی گرم بازاری ہر انسان انفرادیت کے خول میں محصور ہو چکا ہے۔

پردے کا رواج

بنوں کے لوگ بھت خوبصورت ہے۔اس لیے بنوں میں پردے کا سخت رواج ہے خاتون خانہ گھر سے باہر نکلنے کی روادر نہیں ہوتی بوقت ضرورت اگر نکلے بھی تو بھاری بھر کم طویل و عریض چادر سے اپنے آپ کو اچھی طرح ڈھانپ لیتی ہے٫برقعۂ،درون خانہ خواتین امور خانہ داری نبھاتی ہیں جبکہ بیرون خانہ مرد حضرات سارے کام انجام دیتے ہیں۔ افغان معاشرہ میں پردے کا ایسا سخت رواج شاید ہی کسی اور معاشرے میں ملے۔جیسا کہ بنوں میں ہے۔ بنوسیان اس لحاظ سے سفید فام آقاوں کے نزدیک ماضی میں مورد الزام گردانے جاتے تھے گویا بنوسیان کی یہ خوبی ان کے نزدیک خامی تصور کی جاتی تھی ۔ ویسے پردے کا یہ رواج مذہبی سے زیادہ تہذیبی ہے۔

قبرستان

ہر گاوں کے ساتھ محلقہ زمین قبرستان کے لیے مختص ہوتی ہے اور اگر یہ قطہ اراضی سڑک کے کنارےہو تو اور بھی پسند خاطر سمجھاجاتا ہے۔ اس طرح بہترین زرعی اراضی اورکمرشل زمین قبرستان کی نذر کی جاتی ہے ورنہ وزیر قبائل میں غیر آباد اور بنجر زمین اور پتھریلی زمین قبرستان کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ قبیلہ داوڑ بھی بنویان کی تقلید کرتےرہے ہیں۔ بنویان میں دیگر افغان معاشرہ کی طرح غمی خوشی ، تجہیز و تکفین اشتراک عمل سے ہی انجام پاتی ہے۔اگر کوئی کسی وجہ سے شرکت سے معذور رہے تو اس پر ناغہ یعنی جرمانہ لگایا جاتا ہے۔

بنوں میں آباد مختلف اقوام

ابتدا ء میں بنوں میں ہندو اور آریائی آباد تھے۔ بنوں میں جو ابتدائی افغان آباد ہوئے وہ بارکزئی اور منگل قبائل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ بارہویں صدی میں سلطان محمد غوری کے ساتھ یہاں آئے اور یہاں آباد ہوگئے۔ ان لوگوں نے دریائے کرم سے نہر کچکوٹ نکالی اور زراعت شرور کی۔ بمشکل نصف صدی گزاری ہوگی کہ ان میں بے دینی اور بے اتفاقی نے سر اٹھایا۔ اور وہ اپنے پیر و مرشد شیخ محمد روحانی کو عشر دینے سے انکاری ہوئے اس بنا پر وہ ناراض ہو گئے۔ اور وہ علاقہ شوال چلے گئے اور انہوں نے وہاں کے سردار شیتک جو پہلے ہی سے اپنے ہمسایہ قبیلہ وزیروں سے سخت پریشان تھے، کو بنوں پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔

انھوں نے موقع غنیمت جانا اور ایک لشکر کو ترتیب دیا اور اولادِ شاہ نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ چنانچہ بیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ بنوں کی جانب روانہ ہوئے۔ لشکر کی قیات کیوی ، سوری پسرانِ شیتک اور شاہ بین پسرِ شاہ محمد روحانی نے کی اور یہ لشکر دریائے ٹوچی کے جنوبی کنارے پر خیمہ زن ہوا۔ اور یہاں سے بارکزئی اور منگل قبیلہ کے سرداروں کے پاس قاصد روانہ کیے اور انھیں پیغام بھیجا کہ یا تو بغیر کشت و خون کے وہ لوگ یہاں سے چلے جائیں اور اگر بنوں میں ان کو رہنا ہو تو انھیں بنیادی حقوق سے محروم ہونا پڑے گا۔ اور اگر مزاحمت کریں گے تو انھیں قتل کر دیا جائے گا۔

بارکزئی اور منگل قبائل نے پہلی صورت قبول کر لی اور اس طرح براستہ ٹل سے ہوتے ہوئے پاڑہ چنار اور پھر خوست کی سرحد پر آباد ہوئے۔ کچھ کو اولادِ شیتک نے قتل کیا اور کچھ ہندوستان کی طرف چلے گئے۔ کچھ کو یہان پر رہنے دیا گیا۔ جو اب بھی بنوں میں کہیں کہیں آباد ہیں۔باغبان ایک دلیر،بہادر،مہمان نوازاورملک محبت کرنے والی قوم آبادہے.

اب دورحاظر بنوں میں

محسود

وزیر

داوڑ

مروت

بھیٹانی

اور کچھ

بنگش

قبائیل آباد ہیں۔

لکي مروت

خیبر پختونخوا کا ایک ضلع ۔ضلع لکي مروت بنوں ڈويثرن کے ايک نئے ضلع کي حيثّت سے يکم جولائي 1992کو معرضِ وجود ميں آيا۔ اس کی سرحدیں ایک طرف بنوں اور دوسری جانب پنجاب سے ملتی ہیں۔ اپني جغرافيائي حدود، بڑھتي ہوئي آبادي، اور جنوبي ميداني علاقوں ميں ايک مرکزي مقام کي وجہ سے بنوں ضلع کي يہ پراني تحصيل بہت پہلے ضلع بننے کي مستحق تھي۔ يہ خطہ زمين خشک بنجر ميدان ہونے کي وجہ سے ابھي تک ترقي کي حدود کو چھو نہیں سکا، جسکي وجہ کئي رکاوٹيں مثلاً پاني کي عدم دستيابي اور سہولتوںکا فقدان ہيں. يہاں کي زمين کا في حد تک بنجر اور غير آباد ہے۔

اِن تمام محروميوںکے باوجود قدرت نے اس ضلع کو محنتي اور ہنرمند افرادي قوت عطا کي ہے۔ جسکي وجہ سے يہ علاقہ تجارتي مرکز بن رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ کےذرائع اور معدني وسائل کو لوگوں کي معاشي حالت بہتر بنانے ميں بڑا عمل دخل حاصل ضلع کي اکثريّت مروت قوم پر مشتمل ہے۔ یہاں پشتو زبان بولی جاتی ہے۔ یہاں پر سمینٹ کا ایک کارخانہ لکی سیمنٹ کے نام سے ہے۔ سیاسی حوالے سے یہاں سیف اللہ برادران کافی شہرت کے حامل ہیں۔ جنہیں پاکستان میں بادشاہ گر کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ضلع کی تحصیل نورنگ کی زمین کافی حد تک زرخیز ہے۔ یہ علاقہ اہم تجارتی مرکز تصور ہوتاہے۔

شماریات

ضلع کا کُل رقبہ 3164 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 192 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 606000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 116910 ہيکٹيرزھے

 ٹانک 

خیبر پختونخوا کا ایک ضلع۔ ٹانک ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کي پراني تحصیل ہے۔ جس کو یکم جولائي 1992 سے ضلع کي حیثیت دي گئي ۔ حدود اربع کے لحاظ سے ٹانک کو صوبہ خیبر پختونخوا کے مغربي اضلاع میں عمومی اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن میں خصوصي امتیازي مقام حاصل ہے۔ یہاں کے لوگ نہایت جفاکش ہیں۔ تجارتي لحاظ سے یہ ضلع ایک طرف افغانستان اور دوسري طرف صوبہ پنجاب سے ملا ہوا ہے۔ ضلع میں بٹھنی اورمحسود قبیلے کي اکثریت قائم ہے۔ یہ ضلع کچھ پہاڑي اور کچھ میداني ہے۔ یہ ضلع صوبہ خیبر پختونخوا اور کوئٹہ کو براستہ وانا اور ژوب ملاتا ہے۔ اس ضلع کي افرادي قوت نے فني لحاظ سے تجارت اور ٹرانسپورٹ میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔ جبکہ زرعي لحاظ سے یہ ضلع کافي پسماندہ اور توجہ طلب ہے۔ 2007ء میں ٹانک کے حالات بہت زیادہ خراب ہوئے۔ اور مقامی محسود طالبان نے ٹانک پر حملہ کرکے کئی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ اور کئی اہم عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔

شماريات

ضلع کا کُل رقبہ 1679 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 175 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 294000 تھی

زراعت اور تجارت معاش کے کلیدی ذرائع ہیںـ

کُل قابِل کاشت رقبہ 49660 ہيکٹيرز ہے

ڈیرہ اسماعیل خان

خیبر پختونخوا کے جنوب میں پاکستان کا ایک شہر اور اسی نام کے ایک ڈویژن کا ایک ضلع دریائے سندھ کے مغربی کنارے آباد ہے۔ لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور جانور پالنا ہے۔ اس علاقے میں سرائیکی، پشتو اور بلوچی زبان بولی جاتی ہے۔یہاں کے قدیم باشندے لکھیسر قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو کوہاٹ سے آئے تھے اور یہاں سکونت اختیار کی تو یہیں کے ہو رہے لکھیسر قوم کا بنیادی پیشہ اسلحہ سازی تھا اور آج بھی یہ لوگ اسلحہ کی مرمت کا کام کرتے دکھائی دیتے ہیں اسی نسبت سے ان کے کچھ لوگوں نے لوہار کاکام بھی کیا۔ اس پیشے سے کئی لوگ منسلک ہیں۔ ایک عرصہ تک لکھیسر قوم کے پاس ڈیرہ کا بہت سا علاقہ ملکیت میں تھا لیکن بعد میں وہ انہی زمینوں کو بیچ کر اپنی قوم کو پسماندہ کرگئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان شروع میں زیادہ تر علاقہ غیرآباد تھا لیکن بعد میں اس علاقے میں کھیتی باڑی کو کافی ترقی دی گئی اور بڑے بڑے فارم ہاؤس بنائے گئے۔ ٹیوب ویل لگا کر آبپاشی کے نئے نئے طریقے اپنائے گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک یونیورسٹی گومل یونیورسٹی کے نام سے ہے۔

نوشہرہ
کوہاٹ
ہنگو
کرک
بنوں
لکی مروت
ڈیرہ اسماعیل خان
ٹانک

© 2017 by Web Master Shabbir Ahmad Shigri

bottom of page