سعدی شیرازی ؒ
- Apr 12, 2018
- 2 min read
مصلح الدين شیخ سعدی آج سے تقريباً 800 برس پہلے ايران كے شہر شیراز ميں پيدا ہوئے آپ ايك بہت بڑے معلم مانے جاتے ہيں-آپ كى دو كتابيں گلستان اور بوستانبہت مشہور ہيں-پہلى كتاب گلستان نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب بوستان نظم ميں ہے- آپ نے سو برس كى عمر ميں شيراز، ايران ميں انتقال فرمايا-
آپ 1210ء میں ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کی وفات آپ کے بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ اپنی جوانی میں، سعدی نے غربت اور سخت مشکلات کا سامنا کیا اور بہتر تعلیم کے لیے آپ نے اپنے آبائی شہر کو خیرباد کہا اور بغداد تشریف لے آئے۔ آپ نے المدرسة النظاميہ میں داخلہ لیا، جہاں آپ نے اسلامی سائنس، قانون، حکومت، تاریخ، عربی ادب اور اسلامی الٰہیات کی تعلیم حاصل کی سعدی شیرازی نے جامع نظامیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد متعدد ملکوں کی سیاحت کی۔ وہ شام، مصر، عراق، انتولیا بھی گئے، جہاں بڑے شہروں کی زیارت کی، گاہکوں سے بھرے پررونق بازار دیکھے، اعلیٰ درجہ کے فنون لطیفہ کے نمونوں سے محفوظ ہوئے اور وہاں کے علما اور فن کاروں سے ملاقاتیں کی۔
آخر کار وہ جہادی صوفیوں کے ایک گروہ میں شامل ہو گئے، جو صلیبی جنگوں میں شریک تھا۔ ان کے ساتھ مل کر انہوں نے جنگیں لڑیں۔ ایک ایسی ہی جنگ میں وہ جنگی قیدی بنے اور سات سال اس کیفیت میں گزارے۔ ایک غلام کی حیثیت سے وہ خندقیں کھودنے کے کام پر متعین رہے۔ مملوکوں نے تاوان ادا کیا، تو جنگی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ،جن میں سعدی شیرازی بھی شامل تھے۔
قیدسے رہائی کے بعد سعدی شیرازی یروشلم(بیت المقدس) چلے گئے۔ وہاں سے مکہ اور مدینہ کا رُخ کیا۔ بیس برس کی طویل مسافت کے بعد سعدی شیرازی آخر کار اپنے آبائی وطن ایران پہنچے ،جہاں انہیں اپنے پرانے رفقا کی صحبت میسر آئی۔
خراسان میں ان کی ملاقات ایک ترکی امیر طغرل سے ہوئی، جن سے بہت جلد گہری دوستی ہو گئی۔ وہ سعدی شیرازی کو ساتھ لیے سندھ گیا، جہاں انہیں پیر پتر سے ملنے کا موقع ملا، جو ایرانی صوفی شیخ عثمان مروندی کے پیروکار تھے۔ اس سفر میں وہ برصغیر بھی آئے اور وسطی ایشیا کے ممالک کی بھی سیر کی، جہاں و منگول حملوں سے بچے رہنے والے مسلمانوں سے ملے۔ یہی طغرل بعد ازاں سلطنت دہلی کی ملازمت میں داخل ہو گیا۔ اس نے سعدی شیرازی کوبھی اپنے ہاں مدعو کیا۔ سعدی شیرازی، جو ثقافتوں کی رنگا رنگی کے شائق تھے، اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے چل پڑے اور دہلی اور گجرات میں جا کر رہے۔ اس دورمیں انہیں سومناتھ کے تاریخی مندر کی سیر کابھی موقع ملا ۔
سعدی کو ان کے اقوال زریں کی وجہ سے بہت شہرت حاصل ہے۔ جن سب سے زیادہ مشہور "بنی آدم"، "گلستان" کا حصہ ہے:
بنی آدم اعضای یک پیکرند
کہ در آفرینش ز یک گوهرند
چو عضوى بہ درد آورَد روزگار
دگر عضوها را نمانَد قرار
تو کز محنت دیگران بیغمی
نشاید کہ نامت نهند آدمی


Comments