top of page

ایران کا سب سے لمبا بازار

  • Mar 16, 2018
  • 1 min read

 یہ دروازہ اصل میں قدیم دور میں شہر کا جنوبی دروازہ ہوا کرتا تھا ۔ تاریخی روایات سے یہ پتہ چلا ہے کہ اس بازار کی بنیاد سن 1205 ہجری قمری میں آغا محمد خان قاجار کے دور حکومت میں رکھی گئی اور بعد میں فتح علی شاہ قاجار کے دور حکومت میں اس کو مکمل کر لیا گیا ۔ بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اس بازار میں مہمان سرا، مسجد اور دوسری چھوٹی عمارتوں کا اضافہ کیا ۔

یہ بازار مشرق سے مغرب کی طرف سے پھیلا ہوا ہے اور اس لحاظ سے اس کو نیچے والا بازار اور اوپر والا بازار کے نام  دے کر  دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ اوپر والے بازار میں قیصریہ اور امام زادہ واقع ہے اور شہر کا بہت اہم اقتصادی اور تجارتی مرکز اس حصے میں واقع ہے جس کی وجہ سے اس حصے کو خاصی اہمیت حاصل ہے ۔

اس بازار میں بہت سی نادر اشیاء تولید کی جاتی ہیں اور ان اشیاء کے ناموں کی مناسبت سے بازار کو مزید 8 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

عمارت کو بہت ہی نزاکت اور مہارت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے جو قاجار دور کے حکمرانوں کی فنی مہارت اور فن معماری میں دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے ۔ ملک کےاندر سے آنے والے  سیاحوں اور مسافروں کے لیۓ یہ جگہ بہت ہی دلچسپی کا باعث ہوتی ہے جس کو دیکھ کر انہیں ایران کی شاندار تاریخ کے بارے میں اچھی خاصی معلومات پہچتی ہیں ۔


Comments


FOLLOW ME

  • Black Facebook Icon
  • Black Twitter Icon
  • Black Instagram Icon
  • Black Pinterest Icon
  • Black YouTube Icon

STAY UPDATED

POPULAR POSTS

TAGS

© 2017 by Web Master Shabbir Ahmad Shigri

bottom of page