حضرت فاطمہ
- Mar 16, 2018
- 8 min read

شیعہ اور اہل سنت مصادر میں حضرت زہراؑ کے متعدد فضائل ذکر ہوئے ہیں۔ ان فضائل میں سے بعض کا منشاء قرآن کریم کی مختلف آیات جیسے آیۂ تطہیر اور آیۂ مباہلہ وغیرہ ہیں۔ اس قسم کے فضائل میں آیات کا شأن نزول تمام اہل بیتؑ کو شامل کرتا ہے جن میں حضرت زہراؑ کو مرکزیت حاصل ہے۔ آپ کے بعض فضائل احادیث میں بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بِضعۃ الرسول اور محدثہ ہونا وغیرہ ہیں۔
عصمت
اصل مضمون: عصمت اہل بیتؑ
شیعہ نقطہ نگاہ سے فاطمہؑ آیۂ تطہیر کے مصادیق میں سے ایک ہونے کی حیثیت سے عصمت کے مقام پر فائز ہیں۔[105] اس آیہ کے مطابق خداوندعالم نے اہل بیتؑ کو ہر قسم کی برائی اور نجاست سے پاک اور منزہ رکھنے کا ارادہ فرمایا ہے۔[106] شیعہ اور اہل سنت دونوں طریق سے نقل ہونے والی متعدد احادیث کے مطابق حضرت فاطمہؑ اہل بیتؑ میں سے ایک فرد ہیں۔[107] آپ کی عصمت کو مورد بحث قرار دینے کا پہلا مورد پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد پیش آنے والے ناگوار واقعات من جملہ فدک کا واقعہ ہے جس میں امام علیؑ نے آپ کے معصوم ہونے پر آیت تطہیر سے استناد کرتے ہوئے ابوبکر کے اس اقدام کو غلط اور فدک واپس لینے کے حوالے سے حضرت زہراؑ کی درخواست کو ان کا مسلمہ حق قرار دیا۔[108] شیعوں کے علاوہ اہل سنت کی حدیثی اور تاریخی مصادر میں بھی بعض احادیث نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ نے آیۂ تطہیر کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی اہل بیتؑ یعنی فاطمہؑ، علیؑ، حسنؑ اور حسینؑ کو ہر قسم کی گناہ سے مبرا قرار دیا ہے۔[109]
عبادت
مَن اَصعَدَ اِلَی اللهِ خالِصَ عِبادَتِه اَهبَطَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ اِلَیهِ اَفضَلَ مَصلَحَتِه (ترجمہ:جو اپنی خالص عبادت کو اللہ کی طرف بھیجے تو اللہ تعالی اپنی بہترین مصلحت اس کی طرف نازل کرے گا۔
عدة الداعی، ص ۲۳۳
حضرت فاطمہ زہراؑ اپنے والد گرامی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی طرح خدا کیعبادت سے شدید لگاؤ رکھتی تھیں اسی بنا پر اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ نماز اور خدا کے ساتھ راز و نیاز میں بسر کرتی تھیں۔[110] آپ کے قریبی افراد اور آپ کے پاس آنے والے بہت سوں نے آپ کو کئی بار قرآن کی تلاوت میں مشغول پائے ہیں۔[111] بعض مصادر میں آیا ہے کہ بعض اوقات جب حضرت فاطمہؑ قرآن کیتلاوت میں مشغول ہوتی تھیں تو اس دوران آپ غیبی امداد سے بہرہ مند ہوتی تھیں۔ نمونے کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے کہ ایک دن سلمان فارسی نے دیکھا کہ حضرت زہراؑ ہاتھ کی چکی کے پاس قرآن کی تلاوت میں مصروف تھی اور چکی خودبخود چل رہی تھی، سلمان فارسی نے جب اس کام سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کو پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں بیان کیا تو آپ نے فرمایا: "...خداوندعالم نے حضرت زہرا کیلئے چکی چلانے کے واسطے جبرئیل امین کو بھیجا تھا۔"[112] نمازوں کا طولانی ہونا اور رات بھر بیدار رہ کر عبادت میں گزارنا،[113] دنوں کو روزہ رکھنا، شہداء کے قبور کی زیارت کرنا حضرت فاطمہؑ کی رفتار میں نمایاں دکھائی دیتا ہے جس کے بارے میں اہل بیتؑ، بعض صحابہ کرام اور تابعین نے تأکید کی ہے۔[114] اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ دعا و مناجات کی کتابوں میں بعض نمازوں، دعاوں اور تسبیحات وغیرہ کی نسبت حضرت فاطمہؑ کی طرف دی گئی ہے۔[115]
مقام و منزلت
شیعہ اور سنی دونوں فریق کے علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت زہراؑ کے ساتھ دوستی اور محبت کو خدا نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے۔ علماء سورہ شوری کی آیہ نمبر 23 جو آیۂ مودت کے نام سے مشہور ہے سے استناد کرتے ہوئے حضرت فاطمہؑ کی دوستی اور محبت کو فرض اور ضروری سمجھتے ہیں۔ آیۂ مودت میں پیغمبر اکرمؐ کی رسالت اور نبوت کے اجرت کو آپ کی اہل بیتؑ سے مودت اور محبت کرنے کو قرار دیا ہے۔ احادیث کی روشنی میں اس آیہ میں اہل بیتؑ سے مراد فاطمہؑ، علیؑ اور حسنینؑ شریفین ہیں۔[116] آیۂ مودت کے علاوہ پیغمبر اکرمؐ سے کئی احادیث نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق خداوند عالم فاطمہؐ کی ناراضگی سے ناراض اور آپ کی خشنودی سے خشنود ہوتا ہے۔[117] بعض حدیثی مصادر میں حضرت فاطمہؑ کی خلقت کو وجہ تخلیق آسمان قرار دیا گیا ہے، مثلا نمونے کے طور پر عرض کرتا چلوں، حدیث قدسی میں سے ایک مشہور حدیث جو حدیث لولاک کے نام سے معروف ہے، پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ افلاک کی خلقت پیغمبر اکرمؐ کی خلقت پر موقوف ہے آپؐ کی خلقت حضرت علیؑ کی خلقت پر موقوف ہے اور آپ دونوں کی خلقت حضرت فاطمہؑ کی خلقت پر موقوف ہے۔ [118] بعض علماء اگر چہ اس حدیث کی سند کو قابل خدشہ قرار دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس حدیث کے مضمون کو قابل دفاع مانتے ہیں۔[119]
پیغمبر اکرمؐ، سب سے زیادہ حضرت فاطمہؑ سے محبت رکھتے اور آپ کا احترام کرتے تھے۔ حدیث بضعہ نامی مشہور حدیث میں پیغمبر اکرمؐ نے فاطمہؑ کو اپنے جگر کا ٹکڑا قرار دیتے ہوئے فرمایا جس نے بھی اسے ستایا گویا اس نے مجھے ستایا ہے۔ اس حدیث کو پہلی صدی کے محدثین جیسے شیعہ علماء میں سے شیخ مفید اور اہل سنت علماء میں سے احمدبن حنبل نے مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے۔[120]
عورتوں کی سردار
شیعہ سنی دونوں طریقوں سے منقول متعدد احادیث میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ سیدۃ نساء العالمین یعنی بہشت کے تمام عورتوں کی سردار ہیں۔[121]
مباہلہ میں شریک واحد خاتون
صدر اسلام کی مسلمان خواتین میں سے حضرت فاطمہؑ اکیلی خاتون ہیں جنہیں پیغمبر اکرمؐ نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ کیلئے انتخاب فرمایا تھا۔ یہ واقعہ قرآن مجید کی آیۂ مباہلہ میں ذکر ہوا ہے۔ تفسیری، روایی اور تاریخی مصادر کی روشنی میں آیہ مباہلہ اہل بیت پیغمبرؐ کی فضیلت میں نازل ہوئی ہے۔[122] کہا جاتا ہے کہ فاطمہؑ، امام علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ اس واقعے میں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ مباہلے کیلئے گئے اور ان اشخاص کے علاوہ پیغمبر اکرمؐ نے کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں لے گیا۔[123]
پیغمبر اکرمؐ کے نسل کا تسلسل
پیغمبر اکرمؐ کی نسل کا تسلسل اور ائمہ معصومین کا تعین حضرت زہراؑ کی نسل سے ہونا آپ کی فضیلت میں شمار کیا گیا ہے۔[124] بعض مفسرینحضرت زہراؑ کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ کی نسل کے تسلسل کو سورہ کوثر میں مذکور خیر کثیر کا مصداق قرار دیتے ہیں۔[125]
سخاوت
حضرت فاطمہؑ کی میں سخاوت کا پہلو ان کی سیرت اور کردار کی خصوصیات میں سے ایک شمار کیا گیا ہے۔ جس وقت آپؑ نے حضرت علیؑ کے ساتھ مشترک ازدواجی زندگی کا آغاز کیا تو اس وقت آپ لوگوں کی اقتصادی اور مالی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی لیکن اس وقت بھی آپ نے ایک سادہ زندگی گزاری لیکن اس حالت میں بھی آپ خدا کی راہ میں انفاق کرنے کے ذریعے سخاوت کے اعلی نمونے قائم کی ہیں۔[126] اپنی شادی کے کپڑوں کو اسی رات کسی محتاج کو دے دینا،[127] کسی فقیر کو اپنا گردن بند عطا کرنا[128] اور تین دن تک اپنا اور اپنے اہل و عیال کا کھنا مسکین، یتیم اور اسیر کو دے ینا آپ کی زندگی میں سخاوت کے اعلی نمونوں میں سے ہیں۔[129] حدیثی اور تفسیری مصادر میں موجود مطالب کی روشنی میں جب فاطمہؑ، علیؑ اور حسنینؑ نے تین دن پے در پے روزہ رکھا اور افطاری کے وقت پورا کھنا نیازمندوں کو دے دیا تو خدا کی طرف سے سورہ انسان آیت نمبر 5 سے 9 تک نازل ہوئی جو آیت اطعام کی نام سے مشہور ہیں۔[130]
مُحَدَّثہ
خدا کے مقرب فرشتوں کا حضرت فاطمہؑ کے ساتھ ہمکلام ہونا آپ کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ یہی خصوصیت آپ کو "مُحَدَّثہ" کہنے کی وجہ بنی۔ [131] آپ کا پیغمبر اکرمؐ کی حیات طیبہ میں فرشتوں کے ساتھ ہمکلام ہونا[132] اور حضورؐ کی رحلت کے بعد فرشتوں کا آپؑ کیلئے تسلیت دینا اور نسل پیغمبر اکرمؐ کا تسلسل آپ سے جاری رہنے کی خبر دینا اس بات کی واضح نشانیوں میں سے ہیں۔ آئندہ رونما ہونے والے واقعات جو فرشتہ الہی حضرت فاطمہؑ کیلئے بیان کرتے، امام علیؑ انہیں تحریر فرماتے تھے جو بعد میں مصحف فاطمہ کے نام سے معروف ہوئی۔[133]
معنوی میراث
حضرت فاطمہؑ کی عبادی، سیاسی اور اجتماعی زندگی اور ان امور میں آپؑ کی فرمائشات ایک گران بہا معنوی میراث کی طرح تمام مسلمان اپنی روزمرہ زندگی میں انہیں اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیتے ہیں۔ مصحف فاطمہ، خطبہ فدکیہ، تسبیحات اور نماز حضرت زہرا اس معنوی میراث میں سے ہیں۔
آپؑ سے منقول احادیث اس معنوی میراث کی ایک اور پہلو ہیں۔ یہ احادیث اعتقادی، فقہی، اخلاقی اور اجتماعی موضوعات پر مشتمل ہیں۔ ان احادیث میں سے بعض شیعہ اور اہل سنت حدیثی مصادر میں مذکور ہیں جبکہ آپؑ کی اکثر احادیث "مسنَد فاطمہ" اور "اخبار فاطمہ" کے نام سے مستقل کتابوں کی شکل میں منتشر ہوئی ہیں۔ ان مسانید میں سے بعض گذر زمان کے ساتھ مفقود ہو گئے ہیں اور صرف علم رجال اور تراجُم کی کتابوں میں ان راویوں اور مصنفین کا صرف نام مذکور ہیں۔[134]
مصحف فاطمہ، ایسے مطالب پر مشتمل ہے جنہیں حضرت فاطمہؑ نے فرشتہ الہی سے سنا اور امام علیؑ نے اسے آپؑ کے کہنے کے مطابق تحریر کی شکل میں لے آئے۔[135] شیعوں کے مطابق مصحف فاطمہؑ ائمہ معصومین کے پاس محفوظ تھے اور ہر امام اپنی عمر کے آخر میں اسے اپنے بعد والے امام کے سپرد کرتے رہے[136] اور صرف ائمہ معصومینؑ کے علاوہ کسی اور شخص کو اس کتاب تک کوئی رسائی حاصل نہیں رہی ہے۔ یہ کتاب اس وقت امام زمانہ(عج) کے پاس موجود ہے۔[137]
خطبہ فدکیہ، حضرت فاطمہؑ کی مشہور خطبات میں سے ایک ہے جسے آپ نے واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ اور باغ فدک کے غصب کے بارے میں مسجد نبوی میں صحابہ کے بھرے مجمع میں ارشاد فرمایا۔ اس خطبے کے اب تک کئی شرح لکھی جا چکی ہے جن میں سے اکثر کا نام "حضرت زہراؑ کے خطبے کی شرح" یا "شرح خطبہ لُمَّہ" (خطبہ فدکیہ کا ایک اور نام) ہے۔[138]
تسبیحات حضرت زہراؑ سے مراد وہ مشہور ذکر ہے جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت زہراؑ کو تعلیم دی تھی[139] جس سے حضرت فاطمہؑ بہت خوش ہوئی تھیں۔[140] شیعہ اور اہل سنت مصادر میں حضرت زہراؑ کو رسول اکرمؐ کی طرف سے ان تسبیحات کی تعلیم دینے کے حوالے سے مختلف مطالب مذکور ہیں اور کہا جاتا ہے کہ امام علیؑ نے اس ذکر کے سننے کے بعد کسی بھی صورت میں اسے ترک نہیں فرمایا۔[141]
نماز حضرت زہرا سے مراد ایسی نمازیں جنہیں حضرت فاطمہؑ نے آنحضرتؐ یا جبرئیل سے دریافت فرمائی ہیں۔ بعض حدیثی مصادر اور دعاوں کی کتابوں میں ان نمازوں کی طرف اشارات ملتے ہیں۔[142]
حضرت فاطمہؑ سے منسوب اشعار تاریخی اور حدیثی مصادر میں بعض اشعار کو حضرت زہرا سے منسوب کیا گیا ہے۔ تاریخی حوالے سے یہ اشعار دو ادوار سے مربوط ہیں: پیغمبر اکرمؐ کی رحلت سے پہلے کا دور اور آپ کی رحلت کے بعد کا دور۔[143]
شیعی ثقافت میں تاثیر
شیعہ حضرت فاطمہؑ کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیتے ہیں اور آپ کی سیرت شیعہ ثقافت اور شیعوں کی زندگی میں جاری و ساری ہیں۔ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
مہر السنۃ: شیعہ فقہی اور حدیثی کتابوں میں بیٹیوں کیلئے مہر کی تعیین میں حضرت فاطمہؑ کے مہر کو نمونہ عمل اور اسوہ قرار دینے پر بہت تاکید کی گئی ہے اور اصطلاح میں اسے "مہر السنۃ" کہا جاتا ہے۔[144]
ایام فاطمیہ:حضرت فاطمہؑ کی شہادت کے ایام میں عزاداری برپا کرنا۔ ایران سمیت دنیا کے تمام ممالک میں شیعہ حضرات 3 جمادی الثانیکو آپ کی شہادت کی مناسبت سے عزاداری کرتے ہیں اور بعض ممالک منجملہ ایران میں اس دن سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے[145]اور شیعہ مراجع تقلید ننگے پاؤں عزاداری میں شرکت کرتے ہیں۔[146]
محلہ بنی ہاشم کی علامتی تعمیر: ایام فاطمیہ کے ساتھ ساتھ محلہ بنیہاشم، قبرستان بقیع اور حضرت فاطمہؑ کے گھر کی علامتی تعمیر شروع ہوتی ہے جسے دیکھنے کیلئے دور و دراز سے لوگ مقررہ مقامات کی طرف چلے آتے ہیں۔[147]
یوم مادر: یوں تو ہر معاشرے میں ماں کی عظمت کے پیش نظر ایک دن کو ان سے مختص کیا گیا ہے لیکن حضرت فاطمہ کو چونکہ پیغمبر اکرم نے ام ابیہا کا لقب دیا ہے تو اس حوالے سے تمام شیعہ آپ کی ولادت کو یوم مادر سے منانا چاہیے اور ایران میں حضرت فاطمہؑ کی ولادت کا دن یعنی 20 جمادی الثانی کو یوم مادر یا یوم خواتین کے نام سے منایا جاتا ہے۔[148] اس دن لوگ اپنی ماوں کو تحفے تحائف دینے کے ذریعے ان کا خصوصی احترام اور ان کے زحمات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔[149]
بیٹیوں کا نام رکھنا: دینا کا ہر متدین شیعہ اپنی بیٹیوں کا فاطمہ یا حضرت زہرا کے القابات میں سے کوئی لقب نام رکھتا ہے اور ایران میں حالیہ سالوں میں بیٹیوں کے نام رکھنے میں "فاطمہ" اور "زہرا" پہلے دس نمبر پر پہنچے ہوئے ہیں۔[150]
امامت اور رہبری کو فاطمہؑ کی اولاد سے مختص سمجھنا: شیعہ فرقوں میں زیدیہ فرقہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امامت اور رہبری صرف اور صرف حضرت فاطمہؑ کی اولاد سے مختص ہیں۔ اس بنا پر زیدیہ صرف اس شخص کی بعنوان امام پیروی کرتے ہیں اور اس کی حکومت کو قبول کرتے ہیں جو آپ کی نسل سے ہو۔[151] اسی طرح ایک اور فرقہ جو فاطمیوں کے نام سے معروف ہے اور جب انہوں نے مصر میں اپنی حکومت قائم کی تو اس کا نام بھی آپؑ کے نام سے ہی موسوم کیا، وہ اپنے آپ کو حضرت فاطمہؑ سے منسوب مانتے ہیں۔[15

Comments