top of page

شاہنامہ

  • Apr 12, 2018
  • 1 min read

شاہنامہ جس کا لفظی مطلب شاہ کے بارے یا کارنامے بنتا ہے، فارسی ادب میں ممتاز مقام رکھنے والی شاعرانہ تصنیف ہے جو فارسی شاعر فردوسی نے تقریباً 1000ء میں لکھی۔ اس شعری مجموعہ میں “عظیم فارس“ کے تہذیبی و ثقافتی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ مجموعہ تقریباً 60000 سے زائد اشعار پر مشتمل ہے۔[1] اس ادبی شاہکار، شاہنامہ میں ایرانی داستانیں اور ایرانی سلطنت کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ یہ واقعات شاعرانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں اور اس میں عظیم فارس سے لے کر اسلامی سلطنت کے قیام تک کے واقعات، تہذیب، تمدن اور ثقافت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایرانی تہذیب اور ثقافت میں شاہنامہ کو اب بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس کو اہل دانش فارسی ادب میں انتہائی لاجواب ادبی خدمات میں شمار کرتے ہیں۔

فارسی کی رزمیہ شاعری کا شاہکار جس کا آغاز 980ء کو ہوا اور اختتام 1009ء کو ہوا۔

اس کے مرکزی کردار بادشاہ ہیں مگر ضمناً عوامی زندگی اور مختلف قدروں پر حکیمانہ تبصرہ بھی ہے۔

شدید ایران پرستی کے باعث فردوسی نے عربی الفاظ سے پرہیز کیا مگر اس کی وجہ سے زبان مشکل ہے۔ کلام میں بہت زور ہے۔ واقعہ نگاری، منظر کشی اور جذبات نگاری میں شاعر کو غیر معمولی ملکہ حاصل ہے۔ بعض اشعار بے حد بلیغ ہیں۔

مولانا شبلی نعمانی نے اسے ایران کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیا ہے۔



Comments


FOLLOW ME

  • Black Facebook Icon
  • Black Twitter Icon
  • Black Instagram Icon
  • Black Pinterest Icon
  • Black YouTube Icon

STAY UPDATED

POPULAR POSTS

TAGS

© 2017 by Web Master Shabbir Ahmad Shigri

bottom of page