top of page

واقعہ غدير کيا ہے ؟

  • Apr 12, 2018
  • 3 min read


< يَااَيُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اُنزِلَ اظ•ِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَاظ•ِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ يَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ اظ•ِنَّ اللهَ لاَيَہْدِي الْقَوْمَ الْکَافِرِينَ >(1)

”‌اے پيغمبر ! آپ اس حکم کو پہنچاديں جو آپ کے پروردگار کي طرف سے نازل کيا گيا ہے، اور اگر يہ نہ کيا تو گويا اس کے پيغام کو نہيں پہنچايا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“-

اہل سنت کي متعدد کتابوں نيز تفسير و حديث اور تاريخ کي (تمام شيعہ مشہور کتابوں ميں) بيان ہوا ہے کہ مذکورہ آيت حضرت علي عليہ السلام کي شان ميں نازل ہوئي ہے-

ان احاديث کو بہت سے اصحاب نے نقل کيا ہے، منجملہ: ”‌ابوسعيد خدري“، ”‌زيد بن ارقم“، ”‌جابر بن عبد اللہ انصاري“، ”‌ابن عباس“، ”‌براء بن عازب“، ”‌حذيفہ“، ”‌ابوہريرہ“، ”‌ابن مسعود“اور ”‌عامر بن ليلي“، اور ان تمام روايات ميں بيان ہوا کہ يہ آيت واقعہ غدير سے متعلق ہے اور حضرت علي عليہ السلام کي شان ميں نازل ہوئي ہے-

قابل توجہ بات يہ ہے کہ ان ميں سے بعض روايات متعدد طريقوں سے نقل ہوئي ہيں، منجملہ:

حديث ابوسعيد خدري 11/طريقوں سے-

حديث ابن عباس بھي 11/ طريقوں سے-

اور حديث براء بن عازب تين طريقوں سے نقل ہوئي ہے-

جن افراد نے ان احاديث کو (مختصر يا تفصيلي طور پر ) اپني اپني کتابوں ميں نقل کيا ہے ان کے اسما درج ذيل ہيں:

حافظ ابو نعيم اصفہاني نے اپني کتاب ”‌ما نُزِّل من القرآن في عليّ“ ميں (الخصائص سے نقل کيا ہے، صفحہ29)

ابو الحسن واحدي نيشاپوري ”‌اسباب النزول“ صفحہ150-

ابن عساکر شافعي ( الدر المنثور سے نقل کيا ہے، جلد دوم، صفحہ298)

فخر الدين رازي نے اپني ”‌تفسير کبير“ ، جلد 3، صفحہ 636 -

ابو اسحاق حمويني نے ”‌فرائد السمطين“ (خطي)

ابن صباغ مالکي نے ”‌فصول المہمہ“ صفحہ 27 -

جلال الدين سيوطي نے اپني تفسير الدر المنثور ، جلد 2، صفحہ 298 -

قاضي شوکاني نے ”‌فتح القدير“ ، جلد سوم صفحہ 57 -

شہاب الدين آلوسي شافعي نے ”‌روح المعاني“ ، جلد 6، صفحہ 172 -

شيخ سليمان قندوزي حنفي نے اپني کتاب ”‌ينابيع المودة“ صفحہ 120 -

بد ر الدين حنفي نے ”‌عمدة القاري في شرح صحيح البخاري“ ، جلد 8، صفحہ 584 -

شيخ محمد عبدہ مصري ”‌تفسير المنار“ ، جلد 6، صفحہ 463-

حافظ بن مردويہ (متوفي 418ئھ) (الدر المنثور سيوطي سے نقل کيا ہے) اور ان کے علاوہ بہت سے ديگرعلمانے اس حديث کو بيان کيا ہے -

البتہ اس بات کو نہيں بھولنا چاہئے کہ بہت سے مذکورہ علمانے حالانکہ شان نزول کي روايت کو نقل کيا ہے ليکن بعض وجوہات کي بنا پر (جيسا کہ بعد ميں اشارہ ہوگا) سرسري طور سے گزر گئے ہيں يا ان پر تنقيد کي ہے، ہم ان کے بارے ميں آئندہ بحث ميں مکمل طور پر تحقيق و تنقيدکريں گے-

مذکورہ بحث سے يہ بات اجمالاً معلوم ہوجاتي ہے کہ يہ آيہ شريفہ بے شمار شواہد کي بنا پر امام علي عليہ السلام کي شان ميں نازل ہوئي ہے، اور اس سلسلہ ميں (شيعہ کتابوں کے علاوہ) خود اہل سنت کي مشہور کتابوں ميں وارد ہونے والي روايات اتني زيادہ ہيں کہ کوئي بھي اس کا انکار نہيں کرسکتا-

ان مذکورہ روايات کے علاوہ بھي متعددروايات ہيں جن ميں وضاحت کے ساتھ بيان ہوا ہے کہ يہ آيت غدير خم ميں اس وقت نازل ہوئي کہ جب پيغمبر اکرم (ص) نے خطبہ ديا اور حضرت علي عليہ السلام کو اپنا وصي و خليفہ بنايا، ان کي تعداد گزشتہ روايات کي تعداد سے کہيں زيادہ ہے، يہاں تک محقق بزرگوار علامہ اميني غ؛ نے کتابِ ”‌الغدير“ ميں 110/ اصحاب پيغمبر سے زندہ اسناد اور مدارک کے ساتھ نقل کيا ہے، اسي طرح 84/ تابعين اور مشہور و معروف360/ علماو دانشوروں سے اس حديث کو نقل کيا ہے-

اگر کوئي خالي الذہن انسان ان اسناد و مدارک پر ايک نظر ڈالے تو اس کو يقين ہوجائے گا کہ حديث غدير يقينا متواتر احاديث ميں سے ہے بلکہ متواتر احاديث کا بہترين مصداق ہے، اور حقيقت يہ ہے کہ اگر کوئي شخص ان احاديث کے تواتر ميں شک کرے تو پھر اس کي نظر ميں کوئي بھي حديث متواتر نہيں ہوسکتي-

ہم يہاں اس حديث کے بارے ميں بحث مفصل طور پر بحث نہيں کرسکتے ، حديث کي سند اور آيت کي شان نزول کے سلسلہ ميں اسي مقدار پر اکتفاء کرتے ہيں، اور اب حديث کے معني کي بحث کرتے ہيں، جو حضرات حديث غدير کي سند کے سلسلہ ميں مزيد مطالعہ کرنا چاہتے ہيںوہ درج ذيل کتابوں ميں رجوع کرسکتے ہيں:

1- عظيم الشان کتاب الغدير جلد اول تاليف ،علامہ اميني عليہ الرحمہ-

2- احقاق الحق، تاليف ،علامہ بزرگوار قاضي نور اللہ شوستري، مفصل شرح کے ساتھ آيت اللہ نجفي، دوسري جلد ، تيسري جلد، چودھويں جلد، اور بيسوي جلد-

3- المراجعات ،تا ليف ،مرحوم سيد شرف الدين عاملي-

4- عبقات الانوار ، تاليف عالم بزرگوار مير سيد حامد حسين ہندي (لکھنوي) -

5- دلائل الصدق ، جلد دوم، تاليف ،عالم بزرگوار مرحوم مظفر-

Comments


FOLLOW ME

  • Black Facebook Icon
  • Black Twitter Icon
  • Black Instagram Icon
  • Black Pinterest Icon
  • Black YouTube Icon

STAY UPDATED

POPULAR POSTS

TAGS

© 2017 by Web Master Shabbir Ahmad Shigri

bottom of page