يزد ميں دنيا کے قديم ترين درخت
- Apr 12, 2018
- 2 min read
" ابر کوہ " نامي قصبہ ميں سرو کے ايک درخت کي عمر پانچ ہزار سال بتائي جاتي ہے اور کہا جاتا ہے کہ يہ دنيا کا دوسرا قديمي ترين درخت ہے اور تمام جہان ميں زندگي اورخوبصورتي کي علامت سمجھا جاتا ہے - جاپان اور روس کے بعض سائنسدانوں نے اس کي عمر 8000 سال تک بھي بتائي ہے - ان باتوں سے يہ اندازہ لگايا جا سکتا ہے کہ اب بھي سياح يزد کے مغرب ميں 120 کلوميٹر کے فاصلے پر ان دلچسپ تاريخي چيزوں سے بےخبر ہيں - ياد رہے کہ ايران کا شھر " يزد " اپنے تاريخي آثار کي وجہ سے دنيا بھر ميں بےحد معروف ہے اور دنيا بھر سے سياح ان تاريخي مقامات کو ديکھنے کي غرض سے اس جگہ کا رخ کرتے رہتے ہيں -
740 ھجري قمري ميں تاليف ہونے والي حمداللہ مستوفي کي ايک کتاب " نزھت القلوب " ميں اس سرو کے بارے ميں Иر ہے کہ " يہاں پر ايک سرو ہے جو دنيا بھر ميں معروف ہے جس طرح کشمير اور بلخ کے سرو کو شھرت حاصل تھي اور اب يہ ان سے بھي بلندتر اور بڑا ہے - "
"الکساندر روف" ايک روسي سائنسدان اس درخت کي عمر کا اندازہ 4000 سال سے لے کر 4500 سال لگايا ہے - اس درخت کي موجودہ اونچائي 28 ميٹر اور 11-5 ميٹر تک اپنے اطراف ميں اس کے تنے پھيلے ہوۓ ہيں -
یزد میں یوں توبہت سے قدیم درخت پائے جاتے ہیں لیکن بافق نامی قصبے میں ایک درخت ایسا بھی ہے جو مقامی لوگوں کی نظر میں بے حد مقدس ہے۔اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کو کاٹنے سے خون جاری ہو جاتا ہے۔
صوبہ یزد میں پائے جانے والے درختوں میں سرو، چنار اور اخروٹ کے درخت انتہائی قدیم تصور کیے جاتے ہیں ۔پچاس درخت ایسے بھی جنہیں بہت زیادہ احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اورتعطیل کے دن بعض لوگ ان درختوں کے نزدیک رات گزارنے کو اپنے لیے نیک سمجھتے ہیں۔کیونکہ ایسا کرنے سے انہیں بہت سی بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے۔
ان پرانے درختوں ميں سے زيادہ تر 800 سے 1500 سال پرانے ہیں۔اسی علاقے میں پائے جانے والے چنار کے ایک درخت کے بارے میں روایت ہے کہ یہ درخت ہر ہزار سال کے بعد خود بہ خود آگ پکڑ لیتا ہےاور پھر خود سے اُگ آتا ہے۔ لوگ اپنی حاجات پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ دھاگے باندھتے ہیں۔
سرو ایران کا پسندیدہ ترین درخت سمجھا جاتا ہے۔مشہورایرانی باغات میں جا بہ جا ایسے درخت سیاحوں کا استقبال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔فن گارڈن، ماہان اور دولت آباد میں سرو کے باغات اس درخت اور ایرانی تہذیب کے مابین گہرے ربط کا پتہ دیتے ہیں۔


Comments