top of page

ہفت سین کا رواج

  • Mar 16, 2018
  • 2 min read

ایرانی نوروز کے رواج سوفرے ہفت سین یا سین سے شروع ہونے والے سات کھانوں کی میز کو ایک تاریخی اہمیت حاصل ہے۔

یہ بھینٹ یا نذرانہ مختلف علامتی اشیاء سے سجی سات سینیوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ یہ اشیاء زندگی میں سچ، انصاف، مثبت سوچ، اچھے عمل، خوش قسمتی، خوشحالی، سخاوت اور بقاء کی علامت کے طور پر شامل کی جاتی تھیں۔

آج کے دور میں بھی یہ رواج ’سوفرے ہفت سین‘ کی صورت میں زندہ ہے۔ سوفرے ہفت سین یا سِن کا مطلب سات سین کی میز ہے ۔ ’س‘ اردو کی طرح فارسی زبان کا ایک حرف ہے اور سوفرے کا مطلب میز ہے جس پر سات ایسے کھانے سجائے جاتے ہے جن کے نام حرف ’س‘ سے شروع ہوتے ہیں۔

یہ میز عام طور پر ہاتھ سے بنُے کپڑے سے ڈھانکی جاتی ہے جسے ’ترماہ‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے اوپر دعاؤں کی کتاب رکھی ہوتی ہے جسے ’کلام اللہ‘ کہتے ہیں اور اس کے علاوہ زندگی کے عکس کی علامت کے طور پہ ایک آئینہ بھی رکھا جاتا ہے۔

نوروز کے وقت سے کچھ پہلے پورا کنبہ اس میز کے گرد بیٹھتا ہے اور گھر کا بڑا دعاؤں کی کتاب سے نئے سال کی دعا پڑھتا ہے۔

اس دوران وہ کتاب کے مختلف صفحوں کے درمیان کچھ رقم بھی رکھتا جاتا ہے جو بعد میں خاندان کے افراد میں تقسیم کردی جاتی ہے۔ یہ شکرانے کا ایک انداز ہے۔ پھر ایک روایتی کھانا پیش ہوتا ہے جو مچھلی، چاول، ہرا دھنیا، خراسانی اجوائین اور پیاز پر مشتمل ہوتا ہے۔

میز پر ایک اور اہم چیز سنہری مچھلی کا پیالہ ہے۔ قدیم فارس میں یہ عقیدہ بھی رائج تھا کہ نئے سال سے کچھ پہلے یہ مچھلی ساکت ہوجاتی ہے اور نیا سال شروع ہوتے ہی اس میں دوبارہ جان آ  جاتی ہے ۔


Comments


FOLLOW ME

  • Black Facebook Icon
  • Black Twitter Icon
  • Black Instagram Icon
  • Black Pinterest Icon
  • Black YouTube Icon

STAY UPDATED

POPULAR POSTS

TAGS

© 2017 by Web Master Shabbir Ahmad Shigri

bottom of page