top of page

ہفتہ وحدت حضرت امام خميني رحمۃ اللہ عليہ کا عظيم کارنامہ

  • Apr 12, 2018
  • 2 min read

کسي بھي قوم، معاشرہ، دين يا افراد کي ترقي و عروج و کمال اس کے اتحاد، وحدت، اخوت اور برادرانہ تعلقات ميں پنہاں ہوتا ہے جب کہ اس کے مقابل زوال، سرنگوني اور پستي باہمي اختلاف، تفرقہ اور تقسيم کا مرہون منت کہا جاسکتا ہے- ازل سے يہ اصول واضح و روشن ہے کہ اتحاد و وحدت رشد و ترقي اور کاميابي کي ضمانت ہيں، تاريخ ميں جن قوموں اور گروہوں ميں اتحاد و وحدت پائي جاتي تھي، انہوں نے ہي کاميابي کے جھنڈے گاڑے، اس بات کو اس انداز ميں بھي ديکھا جاسکتا ہے کہ جن قوموں نے ترقي و عروج پايا اور اپنے نام کا سکہ چلايا، ان کي کاميابيوں کے پس پردہ راز اتحاد و وحدت کي قوت ہي تھي-

اسلام جو دين فطرت ہے، اس کي تعليمات و احکام خداوندي خالق و مالک کي حکمت و تدبير کے عکاس ہيں، قرآن مجيد جسے آفاقي و جاويداني کتاب کا درجہ حاصل ہے، اس ميں بھي اس موضوع کو بڑي صراحت کے ساتھ بيان کيا گيا ہے، اتحاد کي طاقت اور تفرقہ کے نقصانات بيان کئے گئے ہيں، اسلام کے پيروکاروں کو اتحاد کي تاکيد کي گئي ہے اور تفرقہ سے بچنے کا کہا گيا ہے، سورہ آل عمران ميں ارشاد خداوندي ہے : اور تم سب مل کر اللہ کي رسي کو مضبوطي سے تھام لو اور تفرقہ ميں نہ پڑو، اور تم اللہ کي اس نعمت کو ياد کرو کہ جب تم ايک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں ميں الفت ڈالي اور اس کي نعمت سے تم آپس ميں بھائي بھائي بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے کہ اللہ نے تمہيں اس سے بچا ليا، اس طرح اللہ اپني آيات کھول کر تمہارے لئے بيان کرتا ہے، تاکہ تم ہدايت حاصل کرو- قرآن مجيد ميں اس پہلو پر سورہ حجرات ميں بيان کيا گيا ہے؛ بے شک مومنين آپس ميں بھائي بھائي ہيں، پس اپنے بھائيوں کے درميان صلح کراو اور تقويٰ اختيار کرو، شائد خدا کي محبت تمہارے شامل حال ہوجائے-

اگر ہم گذشتہ صدي کے حالات کا جائزہ ليں تو ہميں ايک شخصيت ايسي نظر آتي ہے، جس نے امت کو اتحاد و وحدت کي عملي دعوت دي، ان کا کہنا تھا کہ امت کے تمام مسائل کا حل اتحاد و وحدت ميں پنہاں ہے، اگر امت ايک ہوجائے تو اس کي طاقت کا مقابلہ کوئي نہيں کرسکے گا اور مسلمان ايک ايسي قوم کي شکل ميں سامنے آئيں گے جن کا مقابلہ کوئي نہيں کرسکے گا، دنيا اس ہستي کو حضرت امام خميني کے نام سے ياد کرتي ہے، حضرت امام خميني جو انقلاب اسلامي ايران کے باني ہيں، انہوں نے انقلاب سے قبل اور انقلاب کے بعد زيادہ شدت اور تاکيد سے اس حوالے سے کام کيا اور امت کو ايک لڑي ميں پرونے کي عملي کوششيں کيں- امام خميني اگرچہ ممالک اور اسلامي رياستوں کي سرحدوں کا احترام کرتے تھے، مگر وہ اس کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کو ايک قوت اور ايک وحدت ميں ديکھنے کے خواہشمند بھي تھے وہ ايک ايک فرد قوم کو اتحاد کي لڑي ميں پرويا ديکھنا چاہتے تھے، کسي شاعر نے کيا خوب کہا ہے :

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہيں

موج ہے دريا ميں اور بيرون دريا کچھ نہيں


Comments


FOLLOW ME

  • Black Facebook Icon
  • Black Twitter Icon
  • Black Instagram Icon
  • Black Pinterest Icon
  • Black YouTube Icon

STAY UPDATED

POPULAR POSTS

TAGS

© 2017 by Web Master Shabbir Ahmad Shigri

bottom of page